کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج سے سات سال پہلے میں نے اپنی بیوی کو غصہ میں طلاق کا ایک لفظ بول دیا تھا، اس کے بعد ہم دونوں میں رجوع ہوچکا تھا،اب سات سال بعد2025/25/12 کو زوجہ کے ساتھ لڑائی ہوگئی ،اور وہ بدتمیزی کررہی تھی،اسی دوران میں نے دو مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے،اور چپ ہوگیاکہ کہیں تیسری مرتبہ لفظ نہ نکل جائے،قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی کریں کہ کیا ہمارے لئے رجوع کی گنجائش باقی ہے یا نہیں؟ہم اپنے عمل پر شرمندہ ہیں،اور آئندہ کے لئے عزم بھی ہے کہ ایسی غلطی دوبارہ نہ ہو،اور غیر مقلدین کا اس بابت ایک طلاق کا فتوی بھی لے چکے ہیں،آیا یہ فتوی درست ہے؟
واضح ہوکہ قرآن وسنت کی روشنی میں باجماعِ صحابہ وتابعین رضی اللہ عنہم اجمعین وباتفاقِ ائمہ اربعہ( امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک ،اور امام احمد بن حنبل ) رحمہم اللہ تین طلاقیں چاہے ایک مجلس میں اور ایک ہی جملہ کے ساتھ دی جائیں ،یا مختلف مجالس میں اور الگ الگ جملوں کے ساتھ دی جائیں، تو اس سے تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوجاتی ہے، قرآن کریم کی نصوصِ قطعیہ ، احادیثِ صحیحہ اور آثار صحابہ وتابعین اور فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریحات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ بیک وقت تین طلاقیں دینا اگر چہ ناپسندیدہ ہو،مگر اس طرح یکمشت تین طلاقیں دینے سےتین بھی طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں، ملاحظہ ہو!
کما قال اللہ سبحانہ وتعالیٰ: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ الآیۃ(سورۃ البقرۃ آیۃ 229)۔
ترجمہ:طلاق دومرتبہ کی ہے،پھر خواہ قاعدہ کے مطابق رکھ لے،خواہ اچھے طریقے سے اس کو چھوڑدے۔
اس آیتِ کریمہ سے علماء ِکرام نے ایک دفعہ میں تین طلاقیں دینے سے تینوں کے واقع ہونے پر استدلال کیا ہے، اور وہ اس طرح کہ اس آیت ِکریمہ کا مضمون یہ ہے کہ طلاق ِ رجعی دو دفعہ کی ہیں، اب اس میں دونوں احتمال ہیں کہ دو طلاق الگ الگ طہر میں دے یا ایک ساتھ دیدے، بہر صورت دونوں واقع ہوں گی، اور جب ایک وقت میں دونوں واقع ہو سکتی ہیں ،تو تین بھی واقع ہوں گی، اس لئے کہ دو اور تین میں فرق کرنے والی کوئی دلیل نہیں پائی جاتی، اور امام بخاری رحمۃاللہ علیہ نے بھی اپنی کتاب صحیح بخاری میں( باب من أجاز الطلاق الثلاث )تین طلاقوں کے واقع ہونے پر اسی سے استدلال کیا ہے۔
قال ابوبكر الرازي تحت عنوان "ذكر الحجاج لايقاع الثلاث معاً قوله تعالى:الطلاق مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيح بِإِحْسَانٍ - الآية يدل على وقوع الثلاث معاً مع كونه منهيا عنه،وذلك لان قوله تعالى الطلاق مَرَّتَانِ قد ابان عن حكم اذا وقع اثنين بان يقول:انت طالق،انت طالق فى طهر واحد و قدبينا ان ذلك خلاف السنة،فاذا كان في مضمون الآية الحكم بجواز وقوع الاثنين على هذا الوجه دل ذلك على صحة وقوعهما لو اوقعهما معاً لان احداً لم يفرق بينهما۔اھ(رسالة حكم الطلاق الثلاث بلفظ واحد، فتوی علماء الحرمين الشریفين) (1/667)۔
و في الصحيح للبخارى:باب من اجاز الطلاق الثلاث،لقول الله تعالى:{الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان}(7/42)۔
وفى عمدة القاري شرح الصحيح للبخارى:وجه الاستدلال به ان قوله تعالى "الطلاق مرتان" معناه مرة بعد مرة، فاذا جاز الجمع بين اثنين جاز بين الثلاث۔الحدیث (20/234) ۔
) وقال الله تعالى: فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ۔ الآیۃ (البقرة: 230) ۔
ترجمہ: "پھر اگر دو طلاقوں کے بعد کوئی [تیسری]طلاق [بھی ] دیدے ،تو پھر وہ عورت اس [تیسری طلاق دینے کے بعد] اس شخص کیلئے حلال نہ ہو گی، جب تک وہ اس کے سوا دوسرے شخص کے ساتھ [ عدت کے بعد ] نکاح نہ کرلے۔
(3):و في الصحيح للبخارى:عن عائشة رضى الله عنها أن رجلاً طلق امرأته ثلاثاً فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول: قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول. (كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، (رقم:5261)۔
ترجمہ: "حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا، دوسرے شخص نے بھی اس کو طلاق دیدی، تو حضورﷺسے دریافت کیا گیا کہ یہ عورت پہلے شخص کے لئے حلال ہو گئی؟ آپ ﷺنے فرمایا: نہیں، جب تک پہلے شوہر کی طرح دوسرا شوہر بھی اس کا ذائقہ نہ چکھ لے"[یعنی صحبت نہ کرلے ]۔
اس حدیث میں " طلق امرأتہ ثلاثاً " کا جملہ تین طلاقیں اکٹھی اور ایک مجلس میں دینے کی صورت کو بھی شامل ہے ،اور اس حدیث سے بظاہر یہی صورت مراد ہونا معلوم ہوتا ہے، جس میں آپ ﷺ نے تینوں طلاقوں کے واقع ہونے کا فیصلہ فرمایا ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر اور علامہ بدرالدین عینی رحمہما اللہ نے بھی اس حدیث کا یہی مطلب بیان کیا ہے،اور امامِ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی "صحیح بخاری" میں ، نیز امام بیہقی نے "السنن الکبری ٰ"میں ایک مجلس کی تین طلاق کے وقوع پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے، امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے،" باب من أجاز طلاق الثلاث" اور امام بیہقی نے یہ باب قائم کیا ہے: "باب ماجاء فی امضاء الطلاق الثلاث وان كن مجموعات"۔
(4)وفى الصحيح لمسلم: عن عائشة رضى الله عنها أنها سألت عن الرجل يتزوج المرأة فيطلقها ثلاثاً فقالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تحل للأول حتى يذوق الآخر عسيلتها و تذوق عسيلته۔الحدیث (باب لاتحل المطلقة ثلاثاً حتى تنكح زوجاً غيره، رقم:1433، السنن الكبرى للبيهقي واللفظ له كتاب الرجعة،باب نكاح المطلقة ثلاثاً، رقم: 15193)۔
ترجمہ: "حضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا گیا کہ کوئی شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے، اس کے بعد اُس کو تین طلاق دے دیتا ہے انہوں نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ عورت اس شخص کے لئے حلال نہیں ہے جب تک کہ دوسرا خاوند اُس کا ذائقہ نہ چکھ لے[صحبت نہ کرلے]جسطرح کہ پہلا خاوند اُس کا ذائقہ چکھ چکا ہے" [صحبت کر چکا ہے]۔
اس حدیث میں بھی " ثلاثاً" کا لفظ اس صورت کو بھی شامل ہے کہ اگر کوئی شخص ایک مجلس میں تین طلاق دیدے ، تو تینوں طلاقیں واقع ہو کر بیوی مغلظہ بائنہ ہو جاتی ہے، یہی روایت دار قطنی میں اس طرح آئی ہے،
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اذا طلق الرجل امرأته ثلاثاً لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره ويذوق كل واحد منهما عسيلةصاحبه۔
الحدیث (سنن الدار قطنی، کتاب الطلاق، رقم: 3977)۔
یعنی: "رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا کہ جب مرد اپنی بیوی کو تین طلاق دےدے، تو وہ اُس کے لئے حلال نہیں ہو گی جب تک کہ دوسرےمردسےنکاح کرکے دونوں ایک دوسرے کا ذائقہ نہ چکھ لیں"۔
امام بخاری نے صحیح بخاری میں حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کے لعان کا واقعہ نقل کیا ہے، اس واقعے میں ہے: "كذبت عليها يا رسول الله ان أمسكتها،فطلقها ثلاثاً قبل أن يأمره رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم "
یعنی: لعان کے بعد حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس ﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر اب بھی میں اس عورت کو اپنے گھر میں رکھوں ، تو گویا میں نے اُس پر جھوٹا بہتان باندھا، یہ کہہ کر انہوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں،علامہ کوثری ؒ فرماتے ہیں: کسی بھی روایت میں یہ مذکور نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے ان پرنکیر فرمائی ہو۔
اس سے صاف معلوم ہوا کہ وہ تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں، اور لوگوں نے بھی اس سے تین طلاق کا وقوع سمجھا، اگر لوگوں کا سمجھنا غلط ہوتا، تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اُن کی اصلاح فرماتے اور لوگوں کو غلط فہمی میں نہ رہنے دیتے ، پوری امت نے اس روایت سے یہی سمجھا ہے ، حتی کہ علامہ ابن حزمؒ نے بھی یہی مطلب سمجھا ہے.چنانچہ انہوں نے فرمایا:
انما طلقها و هو يقدر أنها امرأته ولولا وقوع الثلاث مجموعة لأنكر ذلك عليه فقہی مقالات: ۳/ ۱۹۱، بحواله الاشفاق علی أحکام الطلاق، (ص:29)۔
یعنی: "اگر ایک مجلس میں تین طلاق کا شرعاً اعتبار نہ ہوتا اور تین طلاقیں ایک طلاق تصور کی جاتی ، تو اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور حکم ارشاد فرماتے اور کسی طرح خاموشی اختیار نہیں فرماتے،" جب آپ نے اس پر سکوت اختیار کیا ، تو یہ اس بات کی یقینی دلیل ہے کہ گویا آپ نے تین طلاق کو نافذ قرار دیا، اس کی تائید ابو داؤد میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ہوتی ہے،
جس کے الفاظ یہ ہیں:عن سهل بن سعد قال : فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم . فانفذه رسول اللہ ﷺ۔الحدیث (سنن أبي داود باب في اللعان۔الحدیث (رقم2250)۔
یعنی: "حضرت عویمر ؓ نے آپ ﷺ کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور آپ نے ان کو نافذ کردیا"۔
(5):وفى الصحيح للبخارى: وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»اھ(7/43)۔
ترجمہ : حضرت لیث نافع سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابن عمر ؓسے پوچھا جاتا ایسے شخص کے بارے میں جس نے تین طلاقیں دے دی ہوں تو فرماتے اگر تو ایک یا دو بار طلاق دیتا تو تجھے رجوع کا حق حاصل ہوتا کہ بے شک نبیﷺنے مجھے اس سے رجوع کا حکم فرمایا، پس اگر تو نے اسے تین طلاقیں دے دیں تو وہ تجھ پر حرام ہو گئی، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے۔
(6): وفى سنن النسائى: عن محمود بن لبيد قال :أخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعاً،فقام غضباناً ثم قال:أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهر كم حتى قام رجل وقال: يا رسول الله ألا أقتله۔الحدیث (كتاب الطلاق الثلاث المجموعة ومافيه من التغليظ، رقم:3401)۔
ترجمہ: حضرت محمود بن لبید ؓفرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کو یہ اطلاع ملی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکھٹی تین طلاقیں دے دیں، آپﷺ اس پر غصے میں اٹھ کھڑے ہوئے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ کیا میری موجودگی میں اللہ تعالی کی کتاب سے کھیلا جارہا ہے ؟ حتی کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اُس نے کہا کہ حضرت ! کیا اس شخص کو قتل کر دوں ؟اس حدیث کو حافظ ابنِ القیم، علامہ ماردینی، حافظ ابنِ کثیر اور حافظ ابنِ حجر نے سند کے اعتبار سے صحیح قرار دیا ہے ۔
(عمدة الاثاث ص:27، بحواله زاد المعاد لابن القيم :4/52،الجوهر النقى للماردینی: 7/323 نیل الاوطار:6/241، بلوغ المرام لابن حجر العسقلاني ص:224)۔
اس حدیث میں آپﷺ کا تین طلاق دینے پر ناراض ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینے سے تین ہی طلاق واقع ہوتی ہیں ،ورنہ آپ اس قدر ناراضگی کا اظہار نہیں فرماتے ،اور امام نسائی نےاس حدیث پر جوباب قائم کیاہے:" الثلاث المجموعة ومافيه من التغليظ"اس سے معلوم ہوتا ہےکہ وہ بھی اس حدیث سے یہی ثابت کرناچاہ رہے ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی واقع ہوتی ہیں۔
وفی سنن الکبری:عن سويد بن غفلة قال: كانت عائشة الخثعمية عند الحسن بن علي رضي الله عنه، فلما قتل علي رضي الله عنه قالت: لتهنئك الخلافة، قال: بقتل علي تظهرين الشماتة اذهبي فأنت طالق، يعني ثلاثا قال: فتلفعت بثيابها وقعدت حتى قضت عدتها فبعث إليها ببقية بقيت لها من صداقها وعشرة آلاف صدقة، فلما جاءها الرسول قالت: متاع قليل من حبيب مفارق، فلما بلغه قولها بكى ثم قال: لولا أني سمعت جدي أو حدثني أبي أنه سمع جدي يقول: " أيما رجل طلق امرأته ثلاثا عند الأقراء أو ثلاثا مبهمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره " لراجعتها "اھ(7/549)۔
ترجمہ: "حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ عائشہ خثعمیہ حضرت حسن بن علیؓ کے نکاح میں تھیں، جب حضرت علی شہید کر دیے گئے تو ان کی بیوی نے کہا کہ آپ کو خلافت مبارک ہو ،حضرت حسن نے فرمایا اچھا تم حضرت علی کی شہادت پر خوشی کا اظہار کر رہی ہو، جاؤ تمہیں تین طلاق ، راوی کہتے ہیں: انہوں نے پر دہ کر لیا اور عدت میں بیٹھ گئیں،جب عدت پوری ہو گئی تو حضرت حسن نے بقیہ مہران کے پاس بھیج دیا اور اس کے علاوہ مزید دس ہزار درہم بھی بھیجے ، جب قاصد یہ رقم لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جدا ہونے والے محبوب کی طرف سے متاع قلیل ملا ہے ، جب اس خاتون کا یہ قول حضرت حسن کے پاس پہنچا تو آپ رو پڑے اور فرمایا اگر میں نے اپنے نانا جان سے یہ بات نہ سنی ہوتی، یا یہ فرمایا کہ میرے والد مجھ سے یہ بیان نہ کرتے کہ انہوں نے میرے نانا جان سے یہ سنا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو تین طہر میں تین طلاق دے دے یا تین مبہم طلاقیں دیدے تو وہ عورت اس کیلئے حلال نہیں رہتی ،حتی کہ وہ دوسرے شخص سے نکاح کرلے تو میں اپنی بیوی کو نکاح میں لے لیتا۔
(8):وفى شرح النووى على الصحيح للمسلم: فاختلف العلماء في جوابه وتأويله فالأصح أن معناه أنه كان في أول الأمر إذا قال لها أنت طالق أنت طالق أنت طالق ولم ينو تأكيدا ولا استئنافا يحكم بوقوع طلقة لقلة إرادتهم الاستئناف بذلك فحمل على الغالب الذي هو إرادة التأكيد فلما كان في زمن عمر رضي الله عنه وكثر استعمال الناس بهذه الصيغة وغلب منهم إرادة الاستئناف بها حملت عند الإطلاق على الثلاث عملاً بالغالب السابق إلى الفهم منها في ذلك العصر وقيل المراد أن المعتاد في الزمن الأول كان طلقة واحدة وصار الناس في زمن عمر يوقعون الثلاث دفعة فنفذه عمر فعلى هذا يكون إخبارا عن اختلاف عادة الناس لا عن تغير حكم في مسألة واحدة۔اھ (1/478) ۔
جہاں تک لوگوں میں مشہور بات کا تعلق ہے کہ شروع زمانہ میں ایک نشست میں دی گئی تین طلاق ایک ہی مانی جاتی تھیں ، اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں عموماً لوگوں میں یہ عادت تھی کہ جب ایک طلاق دینی ہوتی تو تاکیداً اس کو دوبارہ مزید دہرادیا کرتے تھے ، اور صدق و صفا غالب ہونے کی وجہ سے ان کی نیت کو معتبر مان کر دیانت کی بنیاد پر ایک طلاق تسلیم کرلی جاتی تھی،مگر جب فتوحات زیادہ ہونے لگیں، اور عجمی لوگ اسلام میں داخل ہو گئے اور دیانت کا وہ معیار نہیں رہا ،اور اس قسم کے واقعات بھی زیادہ ہونے لگے ، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ مشکل ہونے لگا کہ اس کا مقصد تاکید ہے یا نئے سرے سے دوسری اور تیسری طلاق کا قصد ہے ؟ شریعت مطہرہ کے احکام چونکہ ظاہر پر لاگو ہوتے ہیں ،اور باطنی ارادوں اور نیتوں کو صرف اللہ ہی جانتا ہے ، تو حضرت عمرؓ نے شریعت کے اس حکم کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ فیصلہ جاری فرمایا کہ آدمی اپنی زبان سے جتنی بار طلاق دے گا ،اسی کے مطابق حکم جاری کیا جائے گا،چنانچہ خود نبی کریم ﷺ نے جس طرح مختلف واقعات میں ظاہری الفاظ پر تین طلاق کا حکم جاری فرمایا
(جیسا کہ اوپر درج روایات سے واضح ہے ) اس سے حضرت عمر ؓ کے فیصلہ کی تائید ہوتی ہے اور اس پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجماع ہے۔
یہ جو حقیقت حضرت عمر ؓ کے فیصلہ کی لکھی گئی ہے، آج بھی اس دیانت اور ظاہری الفاظ پر حکم لگانے کی تفصیل کے ساتھ ہمارے چاروں مذاہبِ فقہ کی کتابوں میں موجود ہے، مگر اس حقیقت کو جانے بغیر ایک خلیفہ راشد کے فیصلہ اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو متضاد سمجھنے اور غصہ میں بغیر سوچے سمجھے یا اپنے قصد و اردہ سے تین طلاقیں دیکر بعد میں کسی مخصوص جماعت کے فتویٰ وغیرہ کو بنیاد بنا کر اس کو دیانت والی صورت کے تحت لانایا مسلم شریف کی مذکورروایت( جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خبر پر مشتمل ہے) کی حقیقت جانے بغیر تین طلاقوں کو ایک قرار دیکر باہم میاں بیوی کی طرح رہنا قطعاً غلط اور ناجائز ہے ، جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کے خود اپنے فتاوی بھی کثیر تعداد میں اس پر موجود ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں، اگر وہ اس کا وہی مطلب سمجھتے جو آج سمجھا جارہا ہے، تو کبھی بھی اس کے خلاف فتویٰ نہ دیتے، بلکہ وہ بھی ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ہی شمار کرتے۔
(9) : و فى مصنف ابن ابي شيبة: عن هاورن عن أبيه، قال: كنت جالسا عند ابن عباس فأتاه رجل، فقال: يا ابن عباس، إنه طلق امرأته مائة مرة، وإنما قلتها مرة واحدة، فتبين مني بثلاث، أم هي واحدة؟ فقال: «بانت بثلاث، وعليك وزر سبعة وتسعين»۔اھ (4/62)۔
ترجمہ : "ایک شخص ابن عباس کے پاس آیا اور کہا کہ اے ابن عباس !میں نے اپنی عورت کو سو [100]طلاقیں ایک ہی دفعہ میں دے دی ہیں ،کیا وہ مجھ سے تین طلاقوں سے الگ ہو جائے گی یاوہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی؟ آپ نے فرمایا کہ تین طلاقوں سے عورت جدا ہو گئی اور ستانوے کا بار تجھ پر ہے"۔
(10):واخرج ابو داؤد بسند صحیح من طريق مجاهد قال كنت عند ابن عباس فجاءه رجل فقال انه طلق امرأته ثلاثا فسكت حتى ظننت سيردها اليه فقال ينطلق احدكم فيركب الحموقة ثم يقول يابن عباس يابن عباس ان الله تعالى قال ومن يتق الله يجعل له مخرجا وانك لم تتق الله فلم اجدك مخرجا عصيت ربك وبأنت منك امرأتك۔الحدیث (2/260)۔
ترجمہ: حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں ابن عباسؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں آپ سن کر خاموش ہو گئے ،یہاں تک میں نے گمان کیا کہ آپ اس کو رجوع کا فتویٰ دیں گے،لیکن
آپ نے فرمایا، تم میں سے ایک آدمی حماقت پر سوار ہو کر چل پڑتا ہے [اور اپنی بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد ] چلا آتا ہے، اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالا نکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو اللہ سے ڈرے گا تو اللہ اس کیلئے نکلنے کی راہ پیدا فرمائیں گے اور تو چونکہ [ طلاق کے معاملہ میں]اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرا، اس لئے میں تیرے لئے نکلنے کی راہ نہیں پاتا تو اپنے رب کا نا فرمان ٹھہرا اور تیری بیوی بھی تجھ سے جدا ہو گئی۔
لہٰذاصورتِ مسئولہ میں سائل نے جب سات سال قبل اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی ،تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہو گئی تھی ،جس کے بعداگر دورانِ عدت رجوع کرلیا تھا،تو رجوع بھی شرعاًدرست ہوگیا تھا،جبکہ ا ب حالیہ جھگڑے کے دوران سائل نے جب دوبارہ مزید دو مرتبہ طلاق کے الفاظ بول دیے ،تو اس سے سائل کی بیوی پر بقیہ دو طلاقیں بھی واقع ہوکر تین طلاقوں کے ذریعہ حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ،اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ،ور نہ دونوں سخت گناہ گا رہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرجانے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان سے اپنا عقد ِنکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کےفوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ کے بعد طلاق دیدے، یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہرصورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد ِنکاح میں آنا چاہے ،اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ِثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دے گا ، تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقد ِنکاح کرے ،یہ مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر احادیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا جائز اور درست ہے ۔