کیا فرماتے ہیں علماءِ حق کہ زید نے عمر کو 75000 افغانی بطور قرضہ حسنہ دیے تھے، اس وقت تقریباً ایک پاکستانی روپیہ 25 افغانی کی قیمت رکھتا تھا ،اب ایک پاکستانی روپیہ 1000 افغانی کا ہے ،اب عمر زید کو کس طرح قرض ادا کرے؟ کیا اسی وقت کے حساب سے افغانی د یدے ،یا ابھی کی قیمت کے مطابق دے گا ؟ شکریہ !
مروّجہ کاغذی نوٹ اگر چہ ثمن حقیقی نہیں، لیکن ان کے ثمن حقیقی کے مشابہ یا ثمن عرفی ہونے میں کسی کو شک و شبہ یا اعتراض نہیں ،اسی طرح ایک ملک کے مختلف القیمۃ نوٹ یا سکے ایک ہی جنس کی کرنسی ہے ۔ جس کا کمی بیشی کے ساتھ باہم تبادلہ یا قرض بلاشبہ سودی معاملہ ہے ، البتہ دو مختلف ملکوں کی کرنسیاں مختلف الجنس ہونے کی بناء پر اُن کے باہم تبادلہ میں کمی بیشی بلاشبہ جائز اور درست ہے ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ جب زید نے عمر کو /75000 افغانی روپے قرض دیے تھے، اور اس وقت افغانی روپے کی قدر اور آج کی قدر میں اگر چہ نمایاں فرق ہے۔ مگر ایک جنس ہونے کی وجہ سے عمر کا مذکور مبلغ 75000 روپے سے زائد دینا اور زید کا اُسے وصول کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
وفي الهداية شرح البداية: قال رضي الله عنه ومشايخنا رحمهم الله لم يفتوا بجواز ذلك في العدالى والغطارفة لأنها أعز الأموال في ديارنا فلو أبيح التفاضل فيه ينفتح باب الربا اھ (3/ 85)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0