جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
میرے تین بیٹے ہیں جو نوکری کرتےہیں، دو لندن میں ہیں ایک میرے پاس ہے، لندن والے لڑکوں کی آمدنی بھی کم ہے ،اور وہ تقریباً آٹھ لاکھ کے مقروض ہیں، اور میری ایک بیٹی جو کہ شادی شدہ ہے، میرے پاس رہتی ہے، اس کا شوہر اس کو 20 ہزار ماہوار بڑی مشکل سے دے دیتا ہے، وہ بھی اکثر مقروض رہتی ہے، میرے سسرال میں دور کے رشتے دار بھائی نے اپنے بھانجے کے ساتھ ڈھائی لاکھ کپڑے کی دکان میں پیسہ لگایا تھا، اس میں نقصان ہو گیا اور بھانجا پہلے منافع دیتا رہا تھا، اب وہ اصل رقم نہیں دے پا رہا ہے ،اس کی 10000 ہزار تنخواہ پہلے اس نے 54 ہزار ادا کیے تھے ہیں، لیکن ماموں نے ناراضگی اور گالم گلوچ کی تو اس نے دینا بند کر دیا ،تو میری لڑکی نے کہا ہم دینگے، اس نے لندن والے بھائیوں پہ زور ڈال کر کہا کہ دو وہ لوگ مقروض ہیں، میں نے کہا کہ ہم لوگ یعنی تمہارے بھائی بھی تو مقروض ہیں، پہلے اپنا ادا کریں بعد میں ان کا ,مگر نہ مانی اور 66 ہزار روپے اب دے چکے ہیں، اب بیٹی کا ہاتھ تنگ ہے اور میرے بچوں کا تنگ ہے ،بڑی مشکل سے گزارہ ہوتا ہے چارپوتا پوتی ہیں، جو لڑکا میرے پاس ہے، اس کی تنخواہ 140۰0 ہے ،بچے اسکول میں پڑھتے ہیں جو بچے لندن والے مجھے پیسے بھیجتے ہیں وہ میں ان پر خرچ کرتی ہوں، اب ان لوگوں نے میرا آدھا خرچ بند کر دیا ہے کہ ان کا ہاتھ تنگ ہو گیا ہے :
(1) :مجھے یہ فتویٰ لینا تھا کہ اگر انسان خود مقروض ہو تو کیا دوسرے لوگوں کا قرضہ پہلے ادا کرنا چاہے یا اپنا قرضہ پہلے ادا کرنا چاہیے؟ (2) :کیا اگر کسی کے ساتھ بزنس میں پیسہ لگائے ،اور کچھ دنوں کے بعد نقصان ہو جائے، تو کیا اپنا پیسہ پورا مانگنا چاہیئے یا نقصان اور نفع میں برابر کا شریک ہونا چاہیئے ؟
اس میں شک نہیں کہ شرعاً و عقلاً و قانوناً پہلے اپنے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی کرنی چاہیئے ۔ اور اس کے بعد دوسروں کی فکرکرنی چاہیئے۔ تا ہم اگر کوئی باہمت اپنے قرض کی ادائیگی سمیت دوسروں کا بھی خیال رکھے تو بہت ہی بہتر ہے، جبکہ کاروبار میں نقصان کے بارے میں درجِ ذیل تنقیحات کا جواب آنے پر حکم شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
(۱):مذکور دونوں افراد میں شراکت کا معاملہ تھا یا ایک کا پیسہ اور دوسرے کی محنت تھی ؟
(۲): اس سلسلہ میں کوئی تحریری معاہدہ ہوا تھا یا نہیں؟
(۳) :اگر ہوا ہو تو وہ بھی دکھایا جائے ۔
(۴) :مذکور نقصان کس طرح ہوا ،اور اس میں کام کرنے والے کی غفلت کا کوئی دخل تھا یا نہیں ؟ اور کاروبار مکمل ختم ہوا یا اب بھی باقی ہے۔ براہِ کرم ان تنقیحات کا جواب لکھ سوال کو دوبارہ جمع کر دیں ۔ انشاء الله حکم شرعی سے آگاہ کیا جائیگا۔ فقط۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0