کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسمیٰ عبد اللہ کے میرے اوپر ایک لاکھ پانچ ہزار روپے تھے، اور آج سے تقریباً ۱۴ سال قبل ہمارے درمیان یہ معاملہ اس طرح ختم ہوا کہ میں (مسمی۔۔۔) نے مسمیٰ عبد اللہ کو مبلغ ۱۰۵۰۰ ایک لاکھ پانچ روپے قرض کے بدلے میں ایک سوزوکی دیدی، جس پر۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔ موقع کے گواہان میں سے ہیں، اس کے چھ مہینہ بعد مسمیٰ عبد اللہ نے دوبارہ دعویٰ کیا کہ گاڑی میں ٹائر، شیشہ وغیرہ نہیں، اور دوبارہ جرگہ (جس میں ۔۔۔ موجود تھے) نے یہ فیصلہ کیا آپ (حاجی ۔۔۔) مسمیٰ عبد اللہ پانچ ہزار روپے دیکر ی مسئلہ ختم ہو جائےگا، اس فیصلہ کے مطابق میں نے مسمیٰ عبد اللہ کوپانچ روپے دیکر تین دفعہ پوچھا کہ آپ کا کچھ رقم میرے اوپر باقی رہا، تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ یہ میرا یبان حلفی ہے۔
اب تقریباً ایک سال سے مسمیٰ عبد اللہ دوبارہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ آپ گاڑی اس وقت مارکیٹ ریٹ کے حساب سے اسی ہزار کی مالیت پر میں نے لی تھی، اور قرض میں ۲۵ ہزار روپے آپ کے پاس باقی ہے ،وہ مجھے دیدے جبکہ میں نے اس کو بتایا کہ آپ کے ساتھ میرا معاملہ گاڑی کی قیمت ایک لاکھ پانچ ہزار ٹھرا کہ (یعنی قرض کے بدلے) طے ہوا تھا، اور آپ نے بھی گواہوں کی موجودگی میں اس پر رضامندی ظاہر کر کے گاڑی لی تھی ،اور جرگہ کے سامنے یہ فیصلہ بھی ہوا تھا کہ اب آپ کا مزید رقم باقی نہیں رہا،لہٰذا آپ میرے اوپر کچھ باقی رہا۔
لیکن اب مسمیٰ عبداللہ کہہ رہا ہے کہ میں اس پچیس ہزار جو آپ پر قرض ہے، اس پر قسم کے لیے تیار ہوں، اور کوئی فیصلہ وغیرہ مجھے منظور نہیں، بلکہ قسم اٹھا کر اپنی رقم لوں گا۔ اب اس صورت میں ان کا یہ قسم اُٹھانا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرما کر عند اللہ ماجور ہو۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے گواہوں کی موجودگی میں مسمیٰ عبد اللہ کے قرض کے بدلہ میں اسے سوزوکی دیدی، اور اس وقت وہ دونوں اس معاملہ پر راضی بھی ہوگئے تھے ،اور مزید رقم لینے کی کوئی صراحت بھی نہیں کی تھی، تو اس کے بعد مسمیٰ عبد اللہ کا مزید رقم کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں تھا۔
تاہم سائل نے ٹائر اور شیشہ وغیرہ کے لیے پانچ ہزار مزید بھی دیدیئے، تو یہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہوا ہے، اس کے باوجود مسمیٰ عبد اللہ کا اب دوبارہ قسم اُٹھا کر مزید ۲۵۰۰۰ روپے کا مطالبہ کرنا قطعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔ اور سائل پر اس کی قسم سے مزید کچھ بھی لازم نہیں ہوگا۔
ففي البحر الرائق: والأصل أنه متى كان الذي وقع عليه الصلح أدون من حقه قدرا أو وصفا أو في إحداهما فهو إسقاط للبعض واستيفاء للباقي اھ (7/ 259) ۔والله أعلم بالصواب!
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0