کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص مقروض ہے ،اور مقروض نے قرضہ دینے والے سے ایک معینہ مدت تک کا وعدہ کیا ہے، اور یہ بھی دونوں فریقین کے درمیان طے پایا کہ اگر معینہ مدت تک قرض واپس نہ ہوا تو دو ہزار روپے ہر ماہ جرمانے کے طور پر ادا کرےگا، اس بارے میں قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
کسی پریشان حال اور مجبور کو بوقتِ ضرورت قرض دینا بلاشبہ نیکی اور احسان ہے، بروزِ قیامت اس پر اجر وثواب بھی ملےگا، قرض میں معینہ مدت تک نہ لوٹا سکنے کی صورت میں اسے مزید مہلت دینا بھی اجر وثواب سے خالی نہیں۔
ادائیگی قرض کی تاخیر میں ماہانہ دو ہزار روپے یا کم وبیش دینے کے شرط لگانا نہ صرف قرض دینے کی نیکی کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، بلکہ یہ بلاشبہ ناجائز اور سودی معاملہ بھی ہے، جس کی حرمت میں کوئی شبہ نہیں، اس لیے مذکور قرض خواہ پر لازم ہے کہ اس شرط کو فوراً ختم کرے، تاکہ موخذہ اخروی سے حفاظت کے ساتھ ساتھ اس تبرع اور احسان پر کچھ اجر وثواب کی بھی اُمید ہو سکے۔
ففي سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أنظر معسرا، أو وضع له، أظله الله يوم القيامة تحت ظل عرشه يوم لا ظل إلا ظله» اھ (3/ 591)۔
وفيه أیضا: عن أبي مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " حوسب رجل ممن كان قبلكم، فلم يوجد له من الخير شيء إلا أنه كان رجلا موسرا، وكان يخالط الناس، وكان يأمر غلمانه أن يتجاوزوا عن المعسر، فقال الله عز وجل: نحن أحق بذلك منه، تجاوزوا عنه ": هذا حديث حسن صحيح (3/ 591)۔
وفي الدر المختار: القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔والله أعلم بالصواب!
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0