کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عام طور پر گھر میں کوئی چیز ختم ہو جاتی ہے، مثلاً آٹا، گھی، چاول وغیرہ تو عموماً خاتونِ خانہ پڑوسن سےادھار مانگ لیتی ہے، اور جب وہ چیز ان کے گھر میں آ جاتی ہے،تو وہ واپس کر دیتی ہیں۔
۲۔ اسی طرح گاؤں میں لوگ گندم وغیرہ کو اُدھار لیتے ہیں،اور پھرگندم واپس کر دیتے ہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح کا لین دین اور معاملات , کیا یہ ربا کے حکم میں آئیگا یا نہیں؟
اگر کمی بیشی کی شرط نہ ہو تو مذکور اشیاء کا بطورِ قرض لینا دینا بلا شبہ جائز اور درست ہے، اس میں ربا نہیں ہے ۔
فی الدر المختار: (وصح) القرض (في مثلي) اھ (5/ 161)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله في مثلي) كالمكيل والموزون والمعدود المتقارب كالجوز والبيض. وحاصله: أن المثلي ما لا تتفاوت آحاده أي تفاوتا تختلف به القيمة فإن نحوه الجوز تتفاوت آحاده تفاوتا يسيرا اھ (5/ 161)-
وفي الدر المختار: (فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا فصح استقراض جوز وبيض) وكاغد عددا (ولحم) وزنا وخبز وزنا وعددا كما سيجيء اھ (5/ 162) -
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0