کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرض کے لین دین میں سونے کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے، مثلاً ایک آدمی ایک لاکھ روپے قرض لینے کیلئے دوسرے کے پاس جاتا ہے، دوسرا آدمی قرض دینے پر رضامند ہے، مگر وہ کہتا ہے کہ کہ میں کاغذی کرنسی کو جنس نہیں مانتا ہوں ،اس وقت ایک لاکھ روپے میں تین تولہ سونا آتا ہے، آپ مجھ سے تین تولہ سونے کی مساوی روپے لے لیں، رقم کی واپسی کے وقت آپ تین تولے سونے کے مساوی روپے واپس کریں، ہم سونے کی قیمت کو بنیاد بنائیں گے نہ کہ کاغذی کرنسی کو۔ کیا قرض کے لین دین میں سونے کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے؟ کیا کاغذی کرنسی کو جنس مانا جا سکتا ہے؟
واضح ہو کہ قرض کی واپسی اور ادائیگی بالمثل ہوتی ہے، اس لئے جو چیز بطورِ قرض لی ہے، اسی کا لوٹانا لازم ہے۔ نقدی قرض دیکر موجودہ مالیت کے بقدر سونے کی قیمت مانگنا جائز نہیں۔ اس سے احتراز لازم ہے ۔جبکہ نقدی کے جنس ہونے میں تو شرعاً و عقلاً کوئی شبہ نہیں، تاہم شخص مذکور کی غرض اگر لکھ دی جائے تو اس پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: لو استقرض من آخر حنطة فأعطى مثلها بعدما تغير سعرها فإنه يجبر المقرض على القبول كذا في مختار الفتاوى اھ (3/ 202)
وفي تكمله فتح الملھم: وأما الأوراق النقدية (إلى قوله) فلا يجوز مبادلة الأوراق النقدية بجنسها متفاضلة اھ (۱/ ۵۹۰)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0