کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا عقد نکاح میری چچا زاد کے ساتھ ستمبر سن 2009ء میں ہوا تھا ،اور بوقتِ نکاح حق مہر ایک لاکھ روپے طے ہوا۔ میرے پاس ۴ تولہ سونا زیور تھا، (اس وقت تقریباً ایک لاکھ روپے مالیت کا تھا) جو میں نے صراحت کے ساتھ حق مہر کے عوض اسی وقت سپرد کر دیا تھا۔ اس کی وضاحت نکاح نامہ میں بھی ہے ،جس کی کاپی سوال کے ساتھ منسلک ہے، لیکن بعد میں وہ سونا میں نے بوقتِ ضرورت فروخت کر دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ گھر یلو ناچاقی کی وجہ سے نوبت علیحدگی تک آگئی ہے، پوچھنا یہ ہے کہ بصورتِ علیحد گی مجھ پر ۴ تولہ حق مہر کی کون سی قیمت لازم ہوگی ،پھر اگر موجودہ قیمت لازم ہو تو چونکہ وہ زائد ہے، اور میرے پاس نقدی کی صورت میں موجود نہیں، لیکن اتنی مالیت کے پلاٹ دے سکتا ہوں ،جو میری ملکیت ہیں ،کیا یہ تبدیلی شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
سائل نے جب حق مہر کے عوض مذکور چار تولہ سونا دیدیا تھا، تو وہ بیوی کی ملکیت بن گیا تھا، جس کی وجہ سے سائل حق مہر سے برئ الذمہ ہو چکا ہے ،تاہم جب سائل نے یہ سونا بیوی سے واپس لیکر فروخت کر دیا تھا، تو مذکور مقدار زیورات اس کے ذمہ قرض بن گئے ہیں۔ اب سائل کیلئے حکمِ شرعی یہ ہے کہ وہ بیوی کو اتنی مقدار سونا دیدے۔ پھر اگر یکمشت بنا کر دینے کی قدرت نہ ہو تو باہمی رضامندی سے قسط وار بھی بنا کر دیا جا سکتا ہے۔ اور اگر باہمی رضا مندی سے اس مقدار کے عوض پلاٹ دے دیا جائے تو یہ لینے ، دینے کی بھی گنجائش ہے۔
ففي مشكاة المصابيح: عن ابن عمر قال: كنت أبيع الإبل بالنقيع بالدنانير فآخذ مكانها الدارهم وأبيع بالدراهم فآخذ مكانها الدنانير فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال: "لا بأس أن تأخذها بسعر يومها ما لم تفترقا وبينكما شيء". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي (2/ 147)۔
وفي بدائع الصنائع: لو استقرض شيئا من ذوات الأمثال (إلی قوله) ولو لم تكسد ولكنها رخصت أو غلت فعليه رد مثل ما قبض بلا خلاف اھ (5/ 242)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله بل وصف للذمة إلخ) ولهذا قيل إن الديون تقضى بأمثالها اھ (3/ 848)۔
وفي الدر المختار: (و) صح (بيع من عليه عشرة دراهم) دين (ممن هي له) أي من دائنه فصح بيعه منه (دينارا بها) اتفاقا اھ (5/ 265)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0