کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص زید نے سن 2000ء میں مبلغ 10,000 روپے عمرو کو بطور قرض دیئے، جس کی قوتِ خرید اس وقت مثلاً دس بوری آٹے کی تھے، اور اب عمرو سن 2007ء میں زید کو قرض لوٹا رہا ہے، اس وقت دس ہزار روپے کی قوتِ خرید مثلاً ۵ بوری آٹے کی ہے، کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے ،زید عمرو سے اس وقت 15000 ہزار روپے کا مطالبہ کرے، جس کی قوتِ خرید 10 بوری آٹے کی ہے یا محض دس ہزار ہی لے گا؟ جبکہ 10 ہزار کی پہلے کی مالیت اور اب کی مالیت میں واضح فرق ہے۔ جواب دیکر مشکور فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل اپنے قرض دار سے فقط اتنی مقدار روپے ہی لے سکتا ہے،جتنی مقدار کے اُسے دیئے تھے، اس سے زائد بلاشبہ شرعاً سود کےحکم میں داخل ہونے کیوجہ سے جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔ اسی طرح رقم قرض دیکر واپسی میں اس کی قوت خرید کا لحاظ رکھنا وغیرہ بھی سود کے ہی مثل ہے، اس سے بھی احتراز چاہئیے۔
وفي الدر المختار: (قوله بل وصف للذمة إلخ) ولهذا قيل إن الديون تقضى بأمثالها على معنى أن المقبوض مضمون على القابض لأن قبضه بنفسه على وجه التملك ولرب الدين على المدين مثله اھ (3/ 848)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0