کیا فرماتے ہے علماءِ کرام مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں ضلع کو ہستان صوبہ سرحد پاکستان میں ایک تجارت شروع ہوئی ہے، جس کا اصل مقصد کسی مجبور شخص کو قرض دینا ہوتا ہے ،اور اس قرض کی واپسی اس خود ساختہ تجارتی اصول کے قواعد کے مطابق ڈبل ہوتی ہے۔ مثلا ًزید کو قرض پہ رقم چاہیئے جس کیلئے وہ بکر کے پاس گیا کہ مجھے 50000 ہزار روپے قرض چاہیئے ، بکر نے کہا کہ پچاس ہزار روپے میں آپ کو نقد نہیں دونگا ،بلکہ پچاس ہزار روپے کی چینی یعنی 1000 ہزار روپے کے حساب سے ۵۰ کٹے چینی دوکاندار سے لیکر دونگا، 50000 ہزار روپے دوکاندار کو ادا کرونگا، یہی چینی 2000 ہزار روپے فی کٹے کے حساب سے آپ پر فروخت کرونگا ،جو کہ اگلے سال اسی دن تک یعنی جس دن لیکر دونگا، بالکل اسی دن سال مکمل ہونے پر آپ نے ۵۰۰۰۰ ہزار روپے کی چینی 2000 ہزار روپے فی کٹہ کے حساب سے 100000 لاکھ روپے ادا کرینگے ،تو قرض وصول کرنے والا اس مطالبے کو قبول کرتے ہوئے چینی وصول کرتا ہے ،اور وہ چینی لے جا کر 1000 ہزار روپے فی کٹے یا کم کے حساب سے کسی اور پر فروخت کر دیتا ہے۔ اور اسی طرح تقریباًِ پچاس ہزار روپے اس کو نقد مل جاتے ہے ۔
اگر کسی کے پاس وقت مقررہ سے پہلے رقم آئی ،اور اُس نے قرض اس درخواست کے ساتھ واپس کرنا چاہی کہ وقت سے پہلے قرض واپس کرنے کی صورت میں مجھ پر رحم کیا جائے ،اور کچھ کمی کر کے رقم وصول کی جائے ،تو اس مطالبے کو رد کرتے ہوئے پوری رقم وصول کرتے ہیں۔
اگر کوئی وقتِ مقررہ پر یہ رقم واپس نہ کرے تو مزید دو گنی کر کے اگلے سال کے لئے ان کے نام لکھ دی جاتی ہے ۔ بعض قرض دینے والے چینی اپنے پاس صرف اسی مقصد کے لئے رکھتے ہیں عوام کو ایک ایک بوری نہیں دیتے۔
اور یہ کام کرنے والے تمام لوگ اس کو جائز اور علماء سے معلوم کیا ہوا مسئلہ بتاتے ہے، جبکہ ان کے پاس علماء کی تحریری ثبوت نہیں ہوتے۔ ان کے پاس چینی کا دوکان ہوتا ہے ،اس میں چینی اس تجارت کیلئے رکھتے ہے، اگر کوئی نقد چینی مانگتا ہے تو نہیں دینگے۔ برائے کرم اس مسئلہ کی شرعی حیثیت بتا کر ہماری اور تمام مسلمانوں کی راہ نمائی فرمائیں۔
قرض مانگنے کی صورت میں دکاندار قرض دینے کی بجائے آنے والے کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر جو اپنی چیز کی ڈبل قیمت وصول کرتا ہے، یہ حرکت انتہائی ناپسندیدہ اور مکروہ ہے، جبکہ وقت پر رقم واپس نہ لوٹانے کی وجہ سے مزید رقم وصول کرنا کھلم کھلا سود ہے ۔ نیز نقد خریدنے والوں پر بھی نہ بیچنا اور انہیں بھی ادھار پر مجبور کرنا سخت گناہ ہے، ان امور سے احتراز لازم ہے۔ البتہ قرض دینے کی بجائے اگر اپنی یا دکاندار سے خرید کر کوئی چیز قرض لینے والے پر منافع کیساتھ فروخت کر دی جائے اور دیر سویر ہونے کی صورت میں مزید رقم بھی وصول نہ کی جائے، بلکہ طے شدہ قیمت ہی لی جائے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ۔
ففي الدر المختار: وفيها شراء الشيء اليسير بثمن غال لحاجة القرض يجوز ويكره وأقره المصنف. (الى قوله) يظهر أن المناسب الأمر بالرجوع وأقبح من ذلك السلم حتى أن بعض القرى قد خرجت بهذا الخصومة اهـ. (5/ 167)-
وفي حاشية ابن عابدين: تحت: (قوله يجوز ويكره) أي يصح مع الكراهة (الى قوله) فإن تقدم البيع بأن باع المطلوب منه المعاملة من الطالب ثوبا قيمته عشرون دينارا بأربعين دينارا ثم أقرضه ستين دينارا أخرى، حتى صار له على المستقرض مائة دينار، وحصل للمستقرض ثمانون دينارا ذكر الخصاف أنه جائز وهذا مذهب محمد بن سلمة إمام بلخ وكثير من مشايخ بلخ كانوا يكرهونه، ويقولون إنه قرض جر منفعة إذ لولاه لم يتحمل المستقرض غلاء الثمن اھ (5/ 167)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0