السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! ایک مسئلہ یہ پوچھنا تھا کہ میری شادی کے تقریباً سوا سال بعد ہماری طلاق ہو گئی تھی اور اللہ نے ایک بیٹی بھی دی، اس کے بعد بیٹی اپنی والدہ کے ساتھ نانا کے یہاں چلی گئی اور وہیں رہتی ہے۔ بچی کے ماہانہ اخراجات کے لیے پیسے میں دے دیتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ لوگ میرے دیے ہوئے پیسوں کو بچی کے لئے بچا کر رکھ لیں اور اس کے اخراجات اپنے پاس سے پورا کرتے رہیں، تو کیا یہ اُن کے لئے جائز ہے؟ جبکہ میں اس بات کی صراحت کر چکا ہوں کہ یہ بچی کے ماہانہ اخراجات کے لئے پیسے ہیں۔اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ میں نہیں چاہتا کہ مجھے کبھی یہ بات سننے کو ملے کہ بچی کو تو ہم نے پالا ہے اور وہ پیسے تو اُس کےلئے بچا کر رکھ دیے تھے۔ دوسری بات یہ کہ بچی کے لئے پیسے بچانے کی فکر میں خود بھی کرسکتا ہوں۔ اور اگر وہ پیسے جمع ہی کرتے رہیں، تو کیا میں پیسے دینا بند کرسکتا ہو ں؟ اور انکا یہ عمل کیسا ہے ؟
واضح ہو کہ والد پر بیٹوں کی کفالت کا خرچہ ان کے بالغ ہونے تک اور بیٹیوں کی کفالت کا خرچہ ان کے نکاح ہونے تک شرعاً واجب ہوتا ہے۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں سائل پر اپنی بیٹی کی کفالت کا خرچہ ادا کرنا لازم و ضروری ہے، اگر سائل بطورِ والد بیٹی کا خرچہ ادا کر رہا ہو، اس کے باوجود بچی کے ننھیال اپنی طرف سے اس کی ضروریات پر خرچ کرتے ہوں تو یہ ان کی طرف سے تبرع اور احسان ہے، اور ان کے خرچ کرنے سے سائل کے ذمہ سے بیٹی کی کفالت کا خرچہ ساقط نہیں ہوگا۔ نیز سائل کے سسرال والے اس کی طرف سے بچی کے خرچہ کےلئے دیے گئے پیسے بچانے سے وہ ان پیسوں کے مالک نہیں بن جائیں گے، بلکہ وہ پیسے بدستور بچی کی ملکیت میں رہیں گے، اس لئے سائل کو چاہیئےکہ وہ خود پر عائد بچی کی کفالت کی ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دیتا رہے اور مستقبل کے موہوم خدشات کی وجہ سے اپنے ذمہ لازم بچی کے حق کو ترک نہ کرے، ورنہ اس کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔
کما فی الھندیۃ: نفقۃ الأولاد الصغار علی الأب لا یشارکھا فیھا أحد (إلی قولہ)فإن أبی أن یکتسب، و ینفق علیھم، یجبر علی ذالک، و یحبس کذا فی المحیط (إلی قولہ) الذکور من الأولاد إذا بلغوا حد الکسب و لم یبلغوا فی أنفسھم یدفع الأب إلی عمل، لیکسبوا أو یؤاجرھم، و ینفقھم علیھم من أجرتھم و کسبھم (إلی قولہ) إذا کان الإبن من أبناء الکرام، و لا یستأجرہ الناس،فھو عاجز، و کذا طلبۃ العلم إذا کانوا عاجزین عن الکسب لا یھتدون إلیہ لا تسقط نفقتھم عن آبائھم إذا کانوا مشتغلین بالعلوم الشرعیۃ (إلی قولہ) و نفقۃ الأناث واجبۃ مطلقا علی الآباء ما لم یتزوجن إذا لم یکن لھن مال إلخ۔ (الفصل فی نفقۃ الأولاد، ج 1، ص 560۔563، ط: ماجدیۃ)۔
و فی الدر المختار: (و تجب) النفقۃ بأنواعھا علی الحر (لطفلہ) یعم الأنثی و الجمع (الفقیر) الحر إلخ۔
و فی الشامیۃ: تحت(قولہ بأنواعھا) من الطعام و الکسوۃ و السکنی (إلی قولہ) (قولہ الفقیر) أی إن لم یبلغ حد الکسب إلخ۔ (باب النفقۃ، ج 3، ص 612، ط: سعید)۔
و فی الھدایۃ: إذا وقعت الفرقۃ بین الزوجین فالأم أحق بالولد (إلی قولہ) و النفقۃ علی الأب علی ما نذکر (إلی قولہ) و النفقۃ الأولاد الصغار علی الأب، لا یشارکہ فیھا أحد، کما لا یشارکہ فی نفقۃ الزوجۃ إلخ۔ (باب النفقۃ، ج 2، ص 121۔130، ط: انعامیۃ)۔