السلام علیکم! میری بہن کا رشتہ میری پھوپھو کے بیٹے سے نکاح کے ذریعے ہوا تھا، وہ کہہ رہی تھیں کہ ایک سال بعد رخصتی کریں گے، پھر انہوں نے کہا کہ ایک سال اور انتظار کرو، جب دو سال پورے ہوگئے تو اب کہتی ہیں کہ ایک سال مزید انتظار کرو۔
اب پھوپھو کہہ رہی ہیں کہ ان کا بیٹا پولیس ٹریننگ پر جا رہا ہے، جب کچھ مسئلہ پیش آیا تو اب وہ کہہ رہی ہیں کہ میری طرف سے یہ رشتہ ختم سمجھو، یہ میری پھوپھو نے کہا ہے، لڑکے نے نہیں،اب وہ طلاق بھی نہیں دے رہے، کیونکہ بیٹا اپنی ماں کے بغیر کوئی بات نہیں کرتا۔مہربانی فرما کر اس بارے میں شرعی فتویٰ اور مشورہ دیں کہ اب کیا کیا جائے؟ جزاک اللہ!
واضح ہو کہ نکاح ختم کرنا صرف شوہرکے کا اختیار میں ہے، والدہ یا کسی دوسرے رشتہ دار کو نکاح ختم کرنے کا حق حاصل نہیں ، لہٰذا سائلہ کی پھوپھو کا یہ کہنا کہ ’’میری طرف سے رشتہ ختم سمجھو‘‘اس سے سائلہ کی بہن کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کانکاح اپنے شوہرسےبدستور قائم ہے۔البتہ نکاح کے بعد لڑکی کو دو سال تک رخصتی کے نام پرگھرمیں بٹھاکر رکھنا اور پھر نکاح قائم رکھ کر طلاق سے بھی انکار کرنا شرعاً ناجائز اور ظلم ہے۔ شریعت میں کسی عورت کو اس طرح لٹکائے رکھنا سخت منع ہے۔لہٰذا سائلہ کے بہنوئی پر لازم ہے کہ وہ بلاوجہ ٹال مٹول سے گریزکرتےہوئے جلدازجلد رخصتی کااہتمام کرے ۔
تاہم سائلہ کے گھروالوں کے لیےبہتریہ ہے کہ وہ خاندان کے معتبر اور اثرورسوخ رکھنے والے افراد کو درمیان میں لاکر معاملہ باہمی رضا مندی سے حل کرنے کی کوشش کریں۔چنانچہ تمام ترکوششوں کے باوجود اگرشوہررخصتی یا طلاق دونوں میں سے کسی بات پر بھی آمادہ نہ ہو، تو سائلہ کی بہن کو حق حاصل ہوگا کہ: وہ باقاعدہ عدالت/فیملی کورٹ میں فسخِ نکاح کا دعویٰ دائر کرے، عدالت صورتِ حال کاجائزہ لیکر شرعی شرائط کو ملحوظ رکھ کر نکاح فسخ کرنے کی شرعامجاز ہے۔
کمافی الصحیح للبخاریؒ: عن عبد الله بن عمرو: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر (کتاب الایمان،باب علامة المنافق،ح34،ج1،ص21،ط:دار ابن کثیر)۔
وفی سنن الترمذیؒ: عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا (ابواب الصلاۃ،باب ماجآء في الوقت الأول من الفضل،ح171،ج1،ص213،ط:دار الغرب)۔
وفی المرقاۃ تحت(قولهﷺ:والأيم): بتشديد الياء المكسورة أي: المرأة العزبة ولو بكرا (إذا وجدت) : أنت أو وجدت هي (لها كفؤا): قال الطيبي: الأيم من لا زوج له رجلا كان أو امرأة، ثيبا كان أو بكرا، والكفؤ: المثل. وفي النكاح أن يكون الرجل مثل المرأة في الإسلام والحرية والصلاح والنسب وحسن الكسب والعمل. رواه الترمذي(کتاب الصلاۃ،باب تعجیل الصلاۃ،الفصل الثانی،ح605،ج2،ص533،ط:دار الفکر بیروت)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: (وعن عبد الله بن عمرو) بالواو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أربع) أي خصال أربع (إلی قوله) وإذا عاهد غدر) أي ينقض العهد ابتداء، وقال ابن حجر: إذا حالف ترك الوفد إلخ(کتاب الإیمان، باب الکبائر وعلامات النفاق، ج: 1، ص: 128، ط: دار الفکر بیروت)۔
وفی الدر:(لا يقع طلاق المولى على امرأة عبده) لحديث ابن ماجه ”الطلاق لمن أخذ بالساق“الخ
و فی الرد تحت( قوله: الطلاق لمن اخذ بالساق ) کنایة عن ملک المتعة الخ ( کتاب الطلاق، ج 3، ص 242، ط:ایچ ایم سعید)۔