محترم مفتی صاحب جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی! عرض یہ ہے کہ میں ذکیہ محمود جس کی شادی ماموں کے بیٹے محمد اکبر کے ساتھ ہوئی تھی،میرا ایک بیٹا ہے،میں نے اس شخص کے ساتھ نو(9) سال جیسے گزارے وہ میں جانتی ہوں،یہ ہیروئن کا نشہ کرتا ہے،اب میں کراچی میں اپنی والدہ کے پاس ہوں اور یہ لاہور میں رہتا ہے۔
میں نے خلع کا مقدمہ دائر کیا ہے اور ایک نوٹس بھیجا ہے،یہ ہر روز بدتمیزی کرتا ہے اور گالیاں دیتا ہے،آج تو ساری حد پار کردی،بہت بدتمیزی کی اور یہ الفاظ ادا کیےکہ جو میں لکھ رہی ہوں۔
رنڈی اوکے بائے،طلاق، طلاق، طلاق، طلاق، طلاق، طلاق، طلاق، طلاق، طلاق، طلاق، طلاق،رنڈی طلاق دیتا ہوں،پھٹانوں کے پاس جا،پنجابیوں کے پاس،بد دعا ہے رنڈی اوکے بائے،تو کیا اس کی وجہ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں براہِ کرم رہنمائی فرمائیں؟
نوٹ: طلاق کا وائس میسج دارالافتاء کے واٹس ایپ پر موجود ہے۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃ ً درست اور مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور مذکور الفاظ ِطلاق شوہر ہی نے ادا کیے ہوں تو اس سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اور بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوچکی ہیں،اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہگار ہونگے، جبکہ سائلہ عدت کے بعداپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کمافی الدر المختار: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه.اھ(ج3 ص244 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی رد المحتار تحت (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.اھ(ج3 ص230 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: فالذي يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد بکلمۃ واحدۃ أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا.اھ(ج1 ص349 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔