طلاق

طلاق کے متعلق حکم

فتوی نمبر :
78694
| تاریخ :
2024-10-15
معاملات / احکام طلاق / طلاق

طلاق کے متعلق حکم

ایک طلاق یافتہ خاتون، عمر 38 سال، اور ایک شادی شدہ مرد، عمر 42 سال، نے جولائی 2018 میں ویڈیو کال کے ذریعے ایک نکاح کیا جس میں ایک مولوی اور دولہے کے ساتھ ایک گواہ تھا، لیکن دلہن کی طرف سے کوئی موجود نہیں تھا۔ 4 ماہ بعد ان کی تین طلاقیں ہوئیں۔ وہ دونوں مصالحت کرنا چاہتے تھے، اور انہیں ایک مفتی نے بتایا کہ یہ ویڈیو کال نکاح اسلام میں جائز نہیں ہے۔ اس لیے انہوں نے اکتوبر 2020 میں مسجد میں دوبارہ نکاح کیا۔ یہ تقریب ایک مولوی نے منعقد کی اور مسجد میں موجود دو یا تین دیگر افراد نے گواہی دی۔ بیوی کو ایک الگ گھر میں رکھا گیا جہاں شوہر دن کے وقت کبھی کبھار جاتا تھا، لیکن ہر روز نہیں۔ اس نے کبھی کبھار رات وہاں گزاری۔ شادی کی تسکین ہو چکی تھی۔ شوہر کی بیوی کی ذمہ داری قبول نہ کرنے، اس کے ساتھ رہنے یا شادی کو دوستوں اور خاندان کے ساتھ ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے، باقاعدگی سے لڑائیاں اور جھگڑے ہوتے رہے، اس لیے بیوی اکثر خلع یا طلاق کا مطالبہ کرتی رہی۔ بیوی نے اکتوبر 2021 میں واٹس ایپ وائس میسج کے ذریعے خلع کا مطالبہ کیا، جو دیا گیا (کہا، ٹھیک ہے میں تمہیں خلع دے رہا ہوں، کیونکہ تم مانگ رہی ہو)۔ رجوع (مصالحت) چند دن بعد کیا گیا۔ پھر ایک طلاق واٹس ایپ وائس میسج کے ذریعے دسمبر 2021 میں دی گئی (کہا، میں تمہیں ایک طلاق سنت کے مطابق دے رہا ہوں)۔ رجوع چند دن بعد کیا گیا۔ پھر جولائی 2022 میں ایک طلاق واٹس ایپ ٹیکسٹ میسج کے ذریعے دی گئی ، کیونکہ مسائل ویسے ہی تھے: شوہر نے شادی کو ظاہر یا رجسٹر کرنے یا بیوی کے ساتھ رہنا نہیں چاہا۔ اس طلاق کے بعد رجوع نہیں کیا گیا۔ بیوی نے 3 ماہ کی عدت کی مدت پوری کر لی۔
سوالات: کیا ویڈیو کال نکاح جائز تھا؟ کیا وہ طلاق شمار ہوگی؟ کیا مسجد میں بغیر خاندان کے افراد کی موجودگی کے نکاح جائز اور قبول کیا جاتا ہے؟ اگر ہاں، تو کیا طلاق ہوچکی ہے، یا دونوں 2 سال بعد دوبارہ اکٹھے ہوسکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نکاح کے انعقاد کےلئے متعاقدین ( لڑکا، لڑکی ) یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا لازم اور ضروری ہے۔ صورتِ مسؤلہ میں ویڈیو کال کے ذریعے منعقد ہونے والے نکاح کی مجلس میں چونکہ نہ وہ عورت خود موجود تھی اور نہ ہی اس کی طرف سے کوئی وکیل موجود تھا، اس لئے یہ نکاح درست منعقد نہیں ہوا ، بلکہ یہ نکاح فاسد تھا۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں مذکور شخص کےلئے شوہر کی حیثیت سے اس عورت کے ساتھ رہنا بھی جائز نہیں تھا، بلکہ اس شخص پر لازم تھا کہ الفاظِ متارکہ ( میں نے چھوڑ دیا وغیرہ )کہہ کر اس عورت سے علیحدگی اختیار کرتا۔ اور طلاق تب واقع ہوتی ہےجب نکاحِ صحیح ہو، نکاحِ فاسد میں طلاق متحقق ہی نہیں ہوتی۔ اس لئے مذکور شخص کی جانب سے نکاحِ فاسد کے بعد عورت کو دی گئی تین طلاقیں مؤثر نہیں ہوئیں، وہ محض نکاحِ فاسد کے فسخ کا سبب بنی ہیں۔ پھر مرد و عورت کا اکتوبر 2020 میں دوبارہ مسجد میں باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ذریعے کیا گیا نکاح شرعاً درست تھا ، اگرچہ مذکورہ گواہ لڑکے یا لڑکی کے خاندان میں سے نہ تھے۔ پھر جب اکتوبر 2021 میں بیوی کی طرف سے خلع کے مطالبہ پر شوہرنے مذکورہ الفاظ” ٹھیک ہے ، میں تمہیں خلع دے رہا ہوں، کیونکہ تم مانگ رہی ہو “ کے ذریعے خلع دے دی، تو اس سے مذکورہ عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا سابقہ نکاح ختم ہوگیا تھا۔جس کے بعد ان دونوں کا بغیر تجدیدِ نکاح بحیثیتِ میاں بیوی ساتھ رہنا شرعاً جائز نہ تھا۔ تاہم اگر اس کے بعد تجدید نکاح کر کے ازدواجی حقوق کی ادائیگی ہوتی رہی تو بقیہ دونوں طلاقیں بھی واقع ہوکر تین طلاقوں کے ذریعہ حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ومن شرائط الإیجاب و القبول اتحاد المجلس لو حاضرین، وإن طال (إلی قولہ) (و) شرط حضور الشاھدین (حرین) أو حر و حرتین (مکلفین سامعین قولھما معا) (إلی قولہ) (فنفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا) رضا (ولی) والأصل أن کل من تصرف فی مالہ تصرف فی نفسہ وما لا فلا إلخ۔ (کتاب النکاح، ج 3، ص 14۔56، ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (و) یثبت (لکل واحد منھما فسخہ و لو بغیر محضر عن صاحبہ دخل بھا أو لا) فی الأصح خروج عن المعصیۃ۔ فلا ینافی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بیھما (إلی قولہ) أو متارکۃ الزوج وإن لم تعلم المرأۃ بالمتارکۃ فی الأصح إلخ۔
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ أو متارکۃ الزوج) فی البزازیۃ: المتارکۃ فی الفاسد بعد الدخول لا تکون إلا بالقول کخلیت سبیلک أو ترکتک ومجرد إنکار النکاح لا یکون متارکۃ۔ أما لو أنکر وقال أیضا اذھبی وتزوجی کان متارکۃ والطلاق فیہ متارکۃ لکن لا ینقص بہ عدد الطلاق، وعدم مجیئ أحدھما إلی آخر بعد الدخول لیس متارکۃ، لأنھا لا تحصل إلا بالقول وقال صاحب المحیط: وقبل الدخول أیضا لا یتحقق إلا بالقول إلخ۔ (باب المھر، مطلب فی النکاح الفاسد، ج 3، ص 132، ط: سعید)۔
و فی البحر الرائق: (قولہ و الصریح یلحق الصریح و البائن) فلو قال لھا أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقھا علی مال وقع الثانی وکذا لو قال لھا أنت بائن أو خالعھا علی مال ثم قال لھا أنت طالق أو ھذہ طالق کما فی البزازیۃ یقع عندنا لحدیث الخدری مسندا المختلعۃ یلحقھا صریح الطلاق ما دامت فی العدۃ (إلی قولہ) وأما إذا علقہ فی العدۃ فإنہ یصح فی جمیع الصور إلا إذا کان الطلاق بائنا (إلی قولہ)(قولہ و البائن یلحق الصریح) کما إذا قال لھا أنت طالق ثم قال لھا فی العدۃ أنت بائن فشمل ما إذا خالعھا أو طلقھا علی مال بعد الطلاق الرجعی فیصح ویجب المال إلخ۔ (باب الکنایات فی الطلاق، ج 3، ص 306، ط: ماجدیۃ)۔
و فیہ أیضاً: و إنما قیدنا بالمفاعلۃ لأنہ لو قال خلعتک ناویا وقع بائنا غیر مسقط (إلی قولہ) (قولہ الواقع بہ و بالطلاق علی مال طلاق بائن) أی بالخلع الشرعی أما الخلع فلقولہ علیہ الصلاۃ و السلام الخلع تطلیقطۃ بائنۃ ولأنہ یحتمل الطلاق حتی صار من الکنایات والواقع بالکنایۃ بائن إلخ۔ ( باب الخلع، ج 4، ص 71، ط: ماجدیۃ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78694کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • گھر والوں کی دباؤ میں آکر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
Related Topics متعلقه موضوعات