السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! ہمارے ملک کی مختلف مساجد میں عربی، اردو وغیرہ مختلف زبانوں میں شعر (نظم) پڑھتے ہوئے دیکھا جاتا ہے،حالانکہ ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ کتب میں حدیث مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں شعر پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا مسجد میں شعر خوانی جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو اس حدیث کی صحیح تشریح کیا ہوگی؟ براہِ مہربانی جواب عنایت فرمائیں ۔
واضح ہو کے مسجد میں فحش اور غیر اخلاقی اشعار پڑھنا شرعاً ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے، جن احادیث مبارکہ میں مسجد میں شعر گوئی سے منع کیا گیا ہے ،اس سے مراد اسی طرح کے اشعار ہیں، البتہ ایسے اشعار جو اللہ تعالی کی حمد ،رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور دیگر اصلاحی اور جائز امور پر مشتمل ہوں، انہیں مسجد میں پڑھنا جائز ہے ،شرعا ًاس میں کوئی حرج نہیں ، حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مسجد نبوی میں اشعار پڑھنا ثابت ہے جیسا کہ بخاری شریف میں موجود ہے، البتہ مسجد میں اس طرح کی محافل کے انعقاد کی صورت میں آداب مسجد کا پورا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔
كما في صحيح البخاري : عن سعيد بن المسيب قال «مر عمر في المسجد وحسان ينشد فقال: كنت أنشد فيه وفيه من هو خير منك ثم التفت إلى أبي هريرة فقال: أنشدك بالله أسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أجب عني اللهم أيده بروح القدس قال: نعم (كتاب بدء الخلق، ج 4، ص 112، رقم : 3212، ط : السلطانية، مصر)-
وفي سنن ابن ماجه : عن عمرو بن شعيب، عن أبيه عن جده، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البيع، والابتياع وعن تناشد الأشعار في المساجد (باب ما يكره في المساجد، ج 1، ص 481، رقم : 749، ط : دار الرسالة العالمية)-
وفي فتح الباري شرح صحيح البخاري : فالجمع بينها وبين حديث الباب أن يحمل النهي على تناشد أشعار الجاهلية والمبطلين والمأذون فيه ما سلم من ذلك الخ (قوله باب الشعر في المسجد،ج 1، ص 549، المكتبة السلفية، مصر)-
وفي عمدة القاري شرح صحيح البخاري : إن الشعر المشتمل على الحق مقبول بدليل دعاء النبي، لحسان على شعره، فإذا كان كذلك لا يمنع في المسجد كسائر الكلام المقبول، ومراد البخاري من وضع هذه الترجمة هو الإشارة إلى جواز الشعر المقبول في المسجد، والحديث يدل على هذا بهذا الوجه، فيقع التطابق بين الحديث والترجمة لا محالة (باب الشعر في المسجد، ج 4، ص 217، ط : دار الفكر، بيروت)-