طلاق

عدالت سے طلاق لینے کے لئے "فسخِ نکاح "کا شرعی طریقہ کار

فتوی نمبر :
78458
| تاریخ :
2024-10-05
معاملات / احکام طلاق / طلاق

عدالت سے طلاق لینے کے لئے "فسخِ نکاح "کا شرعی طریقہ کار

سوال یہ ہے کہ میری شادی کو تقریبا آٹھ سال ہو گئے ہیں ،میرے شوہر اکبر خان شادی کے شروع سے ہی ناجائز تعلقات میں ملوث رہتے تھے،منع کرنے پر جھگڑا ،مارپیٹ انجام ہوتا ،پیٹنا اس قدر کہ کبھی وائپر، اینٹ، پائپ، ہنٹر جو چیز ہاتھ لگتی آسرا نہ کرتا، مجھے بہانے سے میکے بھجواتا اور پیچھے سے خود بھی اپنی گرل فرینڈ کو بلوا لیتا، اور اگر دوست بولتے تو ان کو بھی گھر کی چابی مہیا کرتا کہ میں بیوی کو میکے بھیج دوں گا اور اتنا ٹائم ہے آ جانا اپنے گرل فرینڈکو لے کر، شادی کے دو سال تک ہم جوائنٹ فیملی میں رہتے تھے، پھر ایسے مسئلے پیدا کر دیے گئے کہ مجھے وہاں سے رات کو تین بجے لے کر میرے ابو کے گھر لے آیا ،میرا جہیز پورا کا پورا وہاں چھوڑ کر اس نے مجھے نکالا،جو میرے کہنے پر اس نے نکلوایا بھی نہیں، جو انہوں نے اپنے کمرے میں سجا لیا اور یہاں میرے ابو نے پھر ہمارے لئے بغیر کرائے کے اپنے گھر کا ،اس کی بائیک اور گھر، کپڑوں نیز ضرورت کی ہر چیز کا انتظام دوبارہ کیا ،ان سب میں اس نے اپنا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا اور الگ گھر میں پھر اپنی حرکتوں کو بزورشروع کرنے لگا، ساری حرکتیں اس نے میرے والد کے اس گھر میں کی ،جس میں ہم بغیر کرایہ کے رہتے تھے،16 مئی 2024 کو اس نے صبح صبح مجھے پیٹا ایسے ہی کسی بات کی بحث پر اور نکل گیا، جب میرے بھائی نے مجھے دیکھا تو اس سے بات کرنے کی کوشش کی ،جو اس کے لیٹ آنے کی وجہ سے رات کو ایک بجے ہوئی، جس میں اس نے یہ اعتراف کیا کہ میں یہ ساری حرکتیں 12 سال سے کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا اور اس میں آپ کا کوئی عمل دخل نہیں، میری والدہ سے اور بھائی سے اس قدر بدکلامی اور بدلحاظی سے بات کی اور کہتا رہا کہ میں اپنی بیوی کو اسی طرح پیٹتا رہوں گا، جو کر سکتے ہو کر لو، جس کی وجہ سے میرا بھائی اور والدہ مجھے اور میرے تین بچوں سمیت وہاں سے لے آئے، اگلے دن پھر میرے بھائی پر حملہ کروانے اپنے خاندان والوں اور غنڈوں سمیت آیا، میرے والد کے گھر پر قبضہ بھی جمانا چاہا، اور وہاں سے سامان بھی لے گیا، اور میرے بھائی سے بھری محفل میں سب کے سامنے کہا کہ” میں بیوی کو چھوڑتا ہوں اور باپ کو اپناتا ہوں“ اور بعد میں بھی کسی ذریعے سے یہ بات پہنچائی کہ ”اپنی بہن کو لو اور کسی اور کو دو“ رکھو اپنی بہن کو اپنے پاس باپ کا مال بہت ہے، اس کے پاس پڑی رہے اپنےمیکے میں” مجھے اس کی ضرورت نہیں“ میں اپنی عیاشی میں خوش ہوں، نہ میرا خرچہ، نہ بچوں کا نان نفقہ، نہ کوئی پوچھنا، نہ کال، نہ کوئی کوشش، کہ ہمیں واپس لے جائیں اور اپنی عیاشی کے لئےگاؤں گھومنے چلا گیا ،جب ہم نے کہا کہ بچوں کو لے جاؤ تو صاف انکار کر دیا کہ میں بچوں کو نہیں لے رہا، اس کی یہ تمام باتیں کہ” میں بیوی کو چھوڑتا ہوں اور مجھے ضرورت نہیں“ اور میرے بھائی کو یہ کہنا کہ ”اپنی بہن لو کسی اور کو دے دو“ یہ ساری باتیں شریعت کی رو سے طلاق ہے؟
نوٹ : میں سائلہ مسماۃخدیجہ بنت سیف الرحمن حلفیہ اقرار کرتی ہوں کہ اس سوال نامہ میں جو کچھ درج ہے ،وہ سچ ہے، اس میں اگر جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا گیا ہو، تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پراور میری آل واولاد پر ہوگا ، اس نکاح سے تین بچے ،ایک بیٹا ان کی عمر بالترتیب ساڑھے پانچ سال کا ،دو بیٹیاں ایک سال کی، جبکہ ایک بیٹی کی عمر تین سال ہے ،ان کی کفالت کس کے ذمہ ہے؟ اور ان کانفقہ وغیرہ کس کے ذمے ہے؟ سوال میں مذکور ”میں بیوی کو چھوڑتا ہوں“کہنے سے طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟اگر نہیں ہوئی تو اس صورت میں شوہر سے خلاصی کی کیا صورت ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی قسم کی الزام تراشی اور جھوٹ سےکام نہ لیا گیا ہو توسائلہ کے شوہر کا مذکور طرزِ عمل شرعاً درست نہیں،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہواہے، لہذا اس پر اپنی ان حرکات سے توبہ اورآئندہ کے لئےاس قسم کی ناجائز حرکات سے اجتناب لازم ہے۔اسکے بعدواضح ہوکہ ”چھوڑتاہوں“کا لفظ اصل میں کنایہ کے لئے وضع کیا گیا تھا،لیکن عرف کی وجہ سے اب یہ صریح بن چکا ہے،لہذصورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اگر صرف ایک مرتبہ یہ جملہ کہا ہو،تو اس کی وجہ سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے،البتہ اس کے بعد شوہر نے جو الفاظ مثلاًاپنی بہن کو لو اور کسی اور کو دے دو،مجھے اس کی ضرورت نہیں“کہے ہیں،اگریہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہ کہے ہوں،توایسی صورت میں مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،لہذا شوہر کودورانِ عدت رجوع کا اختیارحاصل ہے،چنانچہ اگروہ رجوع کے الفاظ مثلاً میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ کہہ دےیا بیوی کو شہوت کے ساتھ چُھولےتواس سےبھی رجوع درست ہوجائیگا اور دونوں کانکاح بدستور برقرار رہےگا،ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح ختم ہوجائیگا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، تاہم اگر شوہر دورانِ عدت رجوع کرلے،لیکن دونوں میاں بیوی میں ہم آہنگی اور موافقت نہ ہوسکےاورہر وقت کے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے دونوں کے لئے حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئےاس رشتہ کو برقرار کھنا مشکل ہو اور شوہر بیوی کا نان نفقہ اوردیگر حقوق بھی ادا نہ کرتا ہوتو ایسی صورت میں شوہر حکماً متعنت شمار ہو گا، لہذا ایسی مجبوری میں سائلہ کو نان و نفقہ نہ دینے اور حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر بذریعہ قضاء قاضی فسخِ نکاح کا حق حاصل ہو گا۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ سائلہ اپنا مقدمہ مسلمان حاکم (حج) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو جائے تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو ، ورنہ ہم تفریق کر دیں گے، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی اور وہ عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح بھی کر سکے گی، اور عدت کی ابتدا قاضی کے فیصلہ کے دن سے ہو گی۔ یاد رہے کہ عدالت میں جو مقدمہ دائر کیا جائے وہ شوہر کے تعنت کی بنیاد پر " تنسیخ نکاح “ کا مقدمہ دائر کیا جائے، خلع کا مقدمہ دائر نہ کیا جائے اور نہ ہی خلع کا طریقہ کار اختیار کیا جائے ، ورنہ فسخ نکاح معتبر نہ ہوگا۔
جبکہ عورت کے پاس اپنا دعوی ثابت کرنے کیلئے اگر گواہ بھی نہ ہوں تو ایسی صورت میں چونکہ شوہر سے قسم لی جاتی ہے، لیکن اگر وہ عدالت میں حاضر ہی نہ ہوتو شوہر کے پاس بار بار " تنسیخ نکاح کا نوٹس پہنچنے کے باوجود اس کا عدالت میں حاضر نہ ہونا حکما " نکول عن الیمین "شمارہو گا، اور اس کے خلاف قاضی کا فیصلہ شرعاً بھی معتبر ہو گا۔
جبکہ علیحدگی کی صورت میں لڑکے کی عمرسات(7)سال اور لڑکی کی عمر نو(9) سال مکمل ہونے تک شرعاً ماں ہی ان کی پرورش کی زیادہ حقدار ہےبشرطیکہ اس دوران وہ ان بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرلے،جبکہ اس دوران ان کی کفالت پر آنے والے تمام اخراجات ان کے والد کے ذمہ اس کی وسعت کے مطابق لازم ہوں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ (153/3)۔
وفی حیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزۃ: واما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق أو طلق،والا طلق علیہ،قال محشیہ ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم اھ(73)۔
وفی الدر المختار: (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر (ثم الأخت لأب وأم ثم لأم) لأن هذا الحق لقرابة الأم الخ(ج3 ص562 باب الحضانۃ ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى.اھ(ج3 ص566باب الحضانۃ ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: ويدل على ذلك ما ذكره البزازي عقب قوله في الجواب المار إن المتعارف به إيقاع البائن لا الرجعي، حيث قال ما نصه: بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي.اھ(ج3 ص299 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي الخ (ج1 ص541 کتاب الطلاق،الباب السادس عشر فی الحضانۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول الخ (ج1 ص542 کتاب الطلاق،الباب السادس عشر فی الحضانۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: وبابتغي الأزواج تقع واحدة بائنة إن نواها أو اثنتين وثلاث إن نواها هكذا في شرح الوقاية (الی قولہ) ولو قال لا حاجة لي فيك ينوي الطلاق فليس بطلاق ولو قال افلحي ينوي الطلاق كان طلاقا كذا في السراج الوهاج.إذا قال لا أريدك أو لا أحبك أو لا أشتهيك أو لا رغبة لي فيك فإنه لا يقع وإن نوى في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في البحر الرائق.اھ(ج1 ص375 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78458کی تصدیق کریں
1     1732
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • گھر والوں کی دباؤ میں آکر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
Related Topics متعلقه موضوعات