کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمٰی محمد اکرم خان نے اپنی بیوی مسماۃ شاہین پروین کو گھریلو لڑائی جھگڑے اور غصہ کی حالت میں تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے "طلاق، طلاق، طلاق" رات سے میں نے بہت زیادہ نشہ بھی کیا تھا، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے۔
واضح ہو کہ نشہ کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا سائل نے لڑائی جھگڑے اور غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو جب مذکور الفاظ" طلاق، طلاق، طلاق " کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما في الهندية : إذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط ان كانت مدخولة طلقت ثلاثا وان كانت غير مد خولة طلقت واحدة الخ (ج1،ص 355، ط:ماجدیۃ)۔
وفي الهداية : وإن كان الطلاق ثلاثا فى الحرة ،أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها الخ (ج۲ ص ۹۲ ط: انعامية)۔
وفی رد المحتار: ویقع الطلاق من غضب خلافاً لابن القیم اھ وھذا الموافق عندنا لما مر فی المدھوش الخ (ج3، ص244، ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: و طلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. و هو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط۔(کتاب الطلاق، فصل فیمن یقع طلاقہ و فیمن لا یقع طلاقہ ج۔ ۱ ص۔ ۳۵۳ ط۔ ماجدیہ)-