محترم مفتیان کرام !السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں! کہ شوہر نے اپنی بیوی کو اس کے ہی طلاق کے مطالبہ پر طلاق دی اور ایک طلاق دی، ایک سال یا اس سے زائد کا وقت گزرنے کے بعد بیوی نے کورٹ میں دعویٰ کیا کہ میں اس کی بیوی ہوں، شوہر کی طرف سے بھی یہ جواب جمع ہوا کہ ہاں یہ میری بیوی ہے میں اسے رکھنا چاہتا ہوں، اب بیوی کے اس دعویٰ پر اور شوہر کے اس جواب پر یہ آپس میں میاں بیوی ہوگئے یا نہیں؟ اسے رجوع کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ شوہر کے جواب جمع کروانے پر خود وکیل،ایک اور مفتی صاحب جو اس شوہر کے جان پہچان والے ہیں وہ بھی گواہ ہیں، اسے رجوع یا نکاح کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟
نوٹ: سائل نے اس سے قبل طلاق نامہ کے ذریعے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی ،جس کے بعد رجوع وغیرہ نہیں ہوا تھا، جس پر دارالافتاء سے فتوی لیا گیا تھا وہ منسلک ہے، جبکہ پہلے طلاق اس شرط پر دی تھی کہ مہر معاف ہوگا ،اب لڑکی نے بیوی ہونے کا دعویٰ اس لیے کیا ہے کہ وہ حق مہر معاف نہیں کرنا چاہتی، جس پر سائل نے بھی عدالت میں لڑکی کے بیوی ہونے کی حامی بھری ہے،سائل نے مزید یہ بھی وضاحت کی کہ ان دونوں کا عدالت میں قاضی کے سامنے باقاعدہ ایجاب و قبول نہیں ہوا،بلکہ عورت کی طرف سے بیوی ہونے کے دعویٰ پر سائل نے فقط تحریری طور پر جواب میں اس کے بیوی ہونے کا اقرار کیا ہے،البتہ عدالت سے باقاعدہ یہ فیصلہ جاری نہیں ہوا بلکہ زیر التوا ہے۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، اس لئے سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہوکہ منسلکہ طلاق نامہ اگر سائل نے خود نہ بنوایا ہو بلکہ سائل کے علاوہ کسی اور نے سائل کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے بنوایا ہو اور سائل نےاس طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے پہلےاس پر تحریر کردہ تین طلاقوں میں سے دو طلاقوں پر قلم سے نشان لگا کر اسے ختم کر کے فقط ایک طلاق کو برقرار رکھ کر، اس پر دستخط کیے ہوں، جسے وہ ثابت بھی کرسکتا ہو، تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی،جس کے بعد شوہر کا دوران عدت رجوع نہ کرنے کی وجہ سے یہ طلاق طلاق بائن ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکا تھا ،البتہ اب عدالت میں اگر فریقین کی جانب سے محض تحریری طور پر دعویٰ اور جواب دعویٰ جمع کیا گیا ہو اور عدالت عالیہ میں باقاعدہ اس پر فیصلہ صادر نہ ہوا ہو تو فقط تحریر جمع کرانے سے ان دونوں کا نکاح بحال نہ ہوگا،بلکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے بدستور اجنبی رہیں گے۔
کما فی الھدایۃ: ومن ادعت عليه امرأة أنه تزوجها وأقامت بينة فجعلها القاضي امرأته ولم يكن تزوجها وسعها المقام معه وأن تدعه يجامعها " وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله وهو قول أبي يوسف رحمه الله أولا وفي قوله الآخر وهو قول محمد رحمه الله لا يسعه أن يطأها وهو قول الشافعي رحمه الله لأن القاضي أخطأ الحجة إذ الشهود كذبة فصار كما إذا ظهر أنهم عبيد أو كفار ولأبي حنيفة أن للشهود صدقة عنده وهو الحجة لتعذر الوقوف على حقيقة الصدق بخلاف الكفر والرق لأن الوقوف عليهما متيسر وإذا ابتنى القضاء على الحجة وأمكن تنفيذه باطنا بتقديم النكاح نفذ قطعا للمنازعة بخلاف الأملاك المرسلة لأن في الأسباب تزاحما فلا إمكان والله أعلم(کتاب النکاح،ج2،ص13،ط:انعامیہ)۔
وعلی حاشیتھا: قولہ:وسعھاالخ:فان حکم القاضی بمنزلۃ انشاء النکاح،او حکم القاضی یجعل النکاح ثابتاً فی الماضی من الزمان بحکم الاقتضاء(ج2،ص13،ط:انعامیہ)۔
وفی فتح القدیر: (قوله ومن ادعت عليه امرأة) لقب المسألة أن القضاء بشهادة الزور في العقود والفسوخ ينفذ عند أبي حنيفة ظاهرا وباطنا إذا كان مما يمكن القاضي إنشاء العقد فيه، فلو ادعى نكاح امرأة أو هي ادعت النكاح أو الطلاق الثلاث كذبا وبرهنا زورا فقضى بالنكاح أو الطلاق نفذ ظاهرا، فتطالب المرأة في الحكم بالقسم والوطء والنفقة، وباطنا فيحل له وطؤها وإن علم حقيقة الحال، ولها أن تمكنه الخ(فصل فی المحرمات،ج3،ص155،ط:رشیدیہ)۔
وفی الدر المختار:وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب الخ ( باب الرجعۃ ، ج 3 ، ص 409 ، ط" سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد الخ (كتاب الطلاق، ج3،ص 187، ط: سعید)۔