کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ پچھلے چھ سال سے میری شوہر کا اپنی پرانی گرل فرینڈ سے افیئر چل رہا تھا ایک مرتبہ میں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جس پر انہوں نے مجھے مار ا پیٹا اور میرا موبائل ضبط کر لیا تکلیفیں جب برداشت سے باہر ہوگئی تو میں نے ان سے علیحدگی کا کہا تو انہوں نے جواباً یہ الفاظ کہے "ایک بار نہیں دس با ر طلاق دیتا ہوں" ان چھ سالوں میں جب بھی ہم دونوں کے درمیان لڑائی جھگڑا اور مار پیٹ ہوتی اور میں ان سے طلاق کا مطالبہ کرتی تو وہ مجھ سے کہتا کہ "ہاں!ایک بار نہیں دس بار طلاق دیتا ہوں" یہ انہوں نے کافی مرتبہ کہے ہیں اس کے بعد جب ہمارے درمیان لڑائی جھگڑا ہوتا اور میں اسے اپنے میکے چھوڑنے کا کہتی تو وہ کہتا کہ "خود بخود چلی جاؤ میں نے تو تمہیں کافی وقت پہلے سے طلاق دے دی ہے میری نظروں سے دور ہو جاؤ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں" یہ الفاظ بھی انہوں نے کافی مرتبہ کہے ہیں،اب ہمارے لئے آئندہ کیا حکم ہے؟ براہِ کرم جلد از جلد جواب مرحمت فرمائیں !شکریہ۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہرنے لڑائی جھگڑے کے دوران طلاق کے مطالبے پر مذکور الفاظ"ایک بار نہیں دس با ر طلاق دیتا ہوں"کہہ دئیے ہوں تو یہ جملہ بولتے ہی سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اس کے بعد دیگر مواقع پر بولے گئے الفاظ محل نہ ہونے کی وجہ سے بے اثرہوگئے ہیں ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا اس کے بعد دونوں کا باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گزارتے ہوئے ایک ساتھ رہنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے،اس لئے دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: رجل قال لامرأته: "هزار طلاق ترا"، وقع الثلاث، رجل قال لامرأته في حال مذاكرة الطلاق: ’’هزار طلاق بدامنت دركردم‘‘ طلقت ثلاثًا اھ (380/1)۔
وفیھا أیضاً: وإذا قال لها: أنت طالق كعدد الألف أو كعدد ثلاث أو مثل عدد ثلاث، فهي ثلاث في القضاء و فيما بينه وبين الله تعالى ولو نوى غير ذلك فنيته باطلة، هكذا في البدائع اھ (370/1)۔
وفیھا ایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (473/1)۔