محترم جناب مفتیان کرام، السلامُ علیکم !
مودبانہ گزارش ہے کہ میں ایک سرکاری دفتر میں کام کرتا ہوں اور میں کوشش کرتا ہوں کہ حرام سے بچوں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ میرے دفتر میں اجلاس کے دوران مختلف قسم کے کھانے آتے ہیں جو کہ سرکاری خزانے سے آتے ہیں جن کی سرکار نے کوئی اجازت نہیں دے رکھی ہے ۔ لہذا جو کھانا ہمارے آفیسر کھا نے کے بعد بچاتے ہیں کیا وہ ہم اس نیت سے کھا سکتے ہیں کہ وہ ضائع نہ ہو یا گند والی ٹوکری میں نہ جائے ۔ برائے مہربانی اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائی جائے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر آفیسرز کو سرکار کی طرف سے اجلاس کے دوران سرکاری خزانےسے کھانا منگوانے کی اجازت نہ ہو تو مذکور آفیسر زکے لیے تو بغیر اجازت کے سرکاری اخراجات پر کھانا منگوا کر کھانا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر وہ کھانا منگوا لیتے ہیں، اور اس کھانے میں سے کچھ بچ جاتا ہے جسے کوڑے دان وغیرہ میں ڈال کر ضائع کیا جاتا ہو تو ایسی صورت میں ضائع ہونے سے بچانے کی غرض سے اس بچے ہوئے کھانے کو کھانے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
کما فی فقہ البیوع: والقسم الثانی: هو المغصوب الذی تغیر بفعل الغاصب تغیراً زال به اسمها ومعظم منافعها، کمن غصب شاةً وذبحها وشواها، أو طبخها، أو غصب حنطةً فطحنها، أو حدیداً فاتخذه سیفاً، أو صفراً فعمله آنیةً۔
وحکمه عند الحنفیة: أن بهذا التغیر زال عنها ملک المغصوب منه، وملکها الغاصب ملکاً خبیثاً، وضمنها، ولا یحل له الانتفاع بها حتی یؤدی بدلها، وهو الظاهر من قول المالکیة۔ قال ابن الحاجب: وإذا ذبح الشاة ضمن قیمتھا، وزاد ابن عرفة الجلاب: «وکان له أکلها»، وروی عن ابن القاسم أن ربها مخیر بین أخذ قیمتھا أو أخذها بعینها علی ما هي علیه من غیر زیادة۔۔۔وحجة الحنفیة علی ما ذکره صاحب الهدایة: «أنه أحدث صنعةً متقومةً صیر حق المالک هالکاً من وجه، ألا تری أنه تبدل الاسم، وفات معظم المقاصد، وحقه فی الصنعة قائم من کل وجه، فیترجح علی الأصل الذی هو فائت من وجه، ولا نجعله سبباً للملک من حیث إنه محظور، بل من حیث إنه إحداث الصنعة۔
وأما کونه لا یحل الانتفاع بها قبل أداء البدل، فهو الصحیح من قول أبي حنیفةؒ، وقال الحسن وزفر رحمهما الله تعالی، یجوز الانتفاع به، وبمثله روی الفقیه أبو اللیث عن أبي حنیفة رحمهما الله تعالی لثبوت ملکه فیه، ولکن هذه الروایة عن أبي حنیفة أنکرها جمع من المشایخ، وذکر صاحب الهدایة أن ما رواه أبو اللیث مقتضی القیاس، وأن روایة عدم حل الانتفاع استحسان۔ (2/981)