طلاق

بیوی کا طلاق کا دعوی کرنا اور شوہر کا اس سے انکاری ہونا

فتوی نمبر :
77682
| تاریخ :
2024-08-26
معاملات / احکام طلاق / طلاق

بیوی کا طلاق کا دعوی کرنا اور شوہر کا اس سے انکاری ہونا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم میاں بیوی کے نکاح کو تقریباً 20 سال ہو گئے ہیں جس سے ہمارے پانچ بچے ہیں، میری بیوی مانسہرہ میں ہوتی ہے، اور میں کراچی میں کام کرتا ہوں ،ابھی ایک مہینہ پہلے میاں بیوی کا فون پر جھگڑا ہوا اور معاملہ تلخ کلامی تک پہنچا ،جس پر بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا جس کے بیان میں درجِ ذیل اختلاف ہے ۔
"میں مسما ۃ پھل چین حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ میں جو کچھ بول رہی ہوں ،وہ سچ ہے ،اگر یہ جھوٹ ہو تو اس کا عذاب مجھ پر اور میرے بچوں پر ہو، طلاق کے مطالبہ پر میرے شوہر نے مجھے کہا کہ" ایک دو تین تو مجھ پر تین شرط طلاق ہے" جا بچوں کو لے کر چلی جا "جبکہ شوہر مسمیٰ محمد نواز کا حلفیہ بیان ہے:
" کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں، وہ سچ ہے، اس میں اگر جھوٹ ہو تو اس کا عذاب مجھ پر اور میرے بچوں پر ہو، میں نے بیوی کو طلاق کے مطالبہ پر صرف یہ بولا کہ" ایک دو تین جا بچوں کو لے کر چلی جا "جبکہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی۔
طلاق کے متعلق مانسہرہ دیہات میں مقیم میاں بیوی کے چچا مسمی سیف اللہ کے بقول طلاق کا معاملہ معلوم ہونے پر میں مانسہرہ شہر کے مفتی صاحب کے پاس آیا اور تمام معاملہ بتایا ،مفتی صاحب نے بیوی سے فون پر بات کی اور بیان لیا تو بیوی نے مفتی صاحب کو بتایا کہ میرے شوہر نے یہ جملہ ایک دو تین جا بچوں کو لے کر چلی جا کہا ،مفتی صاحب نے تاکیداً پوچھا کوئی طلاق کا لفظ بولا تو بیوی نے منع کر دیا کہ طلاق کا لفظ نہیں بولا، جبکہ بیوی کا کہنا ہے کہ فون بند ہونے کے فورا ًبعد میں نے دادی اور چچا وغیرہ کو بتا دیا کہ شوہر نے طلاق دے دی ہے، تو دادی نے کہا کہ خیال کرو، تمہارے چھوٹے بچے ہیں، تم بیان بدل دو، اس لئے میں نے مفتی صاحب کو جھوٹ بولا، جبکہ چھ سات دن بعد شیرشاہ , صابرہ مسجد کے امام کو شوہر نے مذکور بیان دیا اور مفتی صاحب نے دارالافتاء ہذا میں فون پر شوہر کے بیان کی تصدیق بھی کی، جبکہ میاں بیوی کے دوسرے چچا مسمیٰ عبدالرزاق کے بقول جب مجھے معلوم ہوا کہ طلاق کا واقعہ ہوا ہے تو میں نے بیوی سے بات کی اور پوچھا کہ شوہر نے کیا بولا، تو بیوی مسماۃ نے اس چچا کو بھی شوہر کے بیان والا جملہ بتایا نہ کہ تین شرط طلاق والا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، اس لئے سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے ،اس کے بعد واضح ہوکہ" ایک، دو، تین،" عدد ہیں ،اور گنتی کے لئے و ضع ہیں،نہ کہ طلاق کے لئے،اس لئے اگر کوئی شخص فقط یہی گنتی کے عدد استعمال کرے ،تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی ،لیکن اگر ان اعدادکے ساتھ لفظِ طلاق کا بھی ذکر کر دیا جائے ،تو عرفاً ان اعداد سے مراد بھی طلاق ہوتی ہے،لہذا صورتِِ مسئولہ میں بیوی اس بات کی دعویدار ہے کہ شوہر نے میرےطلاق کے مطالبہ پر کہا کہ" ایک دو تین تو مجھ پر تین شرط طلاق ہے"جبکہ شوہر انکاری ہے، اور شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے صرف " ایک دو تین جا بچوں کو لے کر چلی جا "کہالیکن بیوی کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے شرعی شہادت موجود نہیں ہے، اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبروآخرت کی جواب دہی کے لئے تیار ہیں ،جب ایسی صورت درپیش ہو جائے کہ بیوی تین طلاقوں کی دعویدار ہو مگر اس کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو اور شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو تو ایسی صورت میں " المرأۃ کالقاضی " کے اصول کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی ( جج ) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی تین طلاقوں پر گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گناہ گار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اُسے چاہیئے کہ حتی الامکان شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے، بلکہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:( و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عند ذكر العدد، و عند عدمه الوقوع بالصيغة.اھ(ج3،ص287،ط:سعید)۔
و فی رد المختار :و علم مما ذكرنا أنه لو قرنه بالعدد ابتداء فقال: أنت طالق ثنتين، أو قال ثلاثا يقع لما سيأتي في الباب الآتي أنه متى قرن بالعدد كان الوقوع به اھ(ج3،ص250،ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.(ج3،ص251،ط:سعید)۔
وفی البحرالرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ.(ج3،ص277،ط: دار الكتاب الإسلامي)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77682کی تصدیق کریں
0     883
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • گھر والوں کی دباؤ میں آکر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
Related Topics متعلقه موضوعات