کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بیٹے محمد عمر ولد محمد افضل نے اپنی بیوی مسماۃ عروسہ بنت لیاقت علی کو زبانی اور تحریری طور پر تین مرتبہ طلاق دی ہے الفاظِ طلاق , زبانی یہ کہے تھےکہ "میں لیاقت علی کی بیٹی عروسہ کو طلاق دیتا ہو ں " یہ جملہ نو مرتبہ کہا مختلف اوقات میں اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ؟ اور اب ان کے لئے کیا حکم ہے؟ نیز محمد عمر بھی اس بات کا اقرار کرتا ہے ۔
نوٹ : بذریعہ فون معلوم ہوا کہ سائل کے بیٹے نے اپنی بیوی کو پہلے ایک ساتھ تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہےتھے، پھر دو دن بعدمزید تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہےتھے، اس کے کچھ دن بعد مزید تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے تھے، اور بعد میں تین طلاق پر مشتمل طلاق نامہ بنایا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے بیٹے محمد عمر کی بیوی مسماۃ عروسہ بنت لیاقت علی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکی ہیں ، چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔
کما قال الله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ (سورة البقرة ، الأية : 230)-
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ (باب شهادة المختبي ، ج 2 ، ص 1243 ، رقم : 2639 ، ط : البشرى)-
و في بدائع الصنائع : و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله عز وجل فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ (فصل وأما حكم البائن ، ج 3 ، 187 ، ط : سعيد)-
وفي الفقه الإسلامي وأدلته : والبائن بينونة كبرى: هو الذي لا يستطيع الرجل بعده أن يعيد المطلقة إلى الزوجية إلا بعد أن تتزوج بزوج آخر زواجاً صحيحاً، ويدخل بها دخولاً حقيقياً، ثم يفارقها أو يموت عنها، وتنقضي عدتها منه. وذلك بعد الطلاق الثلاث حيث لا يملك الزوج أن يعيد زوجته إليه إلا إذا تزوجت بزوج آخر . (ج 9، ص 6956 ، ط : دار الفكر، سورية ، دمشق)-