کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیٹی کے شوہر نے کچھ ناچاقی کی وجہ سے منسلکہ طلاق نامہ بھیج دیا ہے، آپ اس پر نظر فرما کر حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طور پر طلاق دینے سے طلاق واقع ہوتی ہے ، اسی طرح اپنی مرضی سے بلا کسی جبر و اکراہ , تحریری طور پر طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے داماد مسمٰی " محمد افنان خورشید ولد خورشید عالم" نے بلا کسی جبر و اکراہ کے اپنے ہوش و حواس میں منسلکہ طلاق نامہ پر دستخط کر دیے ہوں تو سائل کی بیٹی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
كما في الدر المختار: ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة (ج3،صـــ246،ط:سعید)۔
وفی الشامیۃ تحت: (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب (إلی قولہ) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط (إلی قولہ) ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابہ اھ (ج3،صـــ246،ط:سعید)۔
وفیھا أیضاً: (والكتابة كالخبر) اھ (ج3،صـــ807،ط:سعید)۔
وفی الھدایۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها اھ (ج2، صـــ92، ط:انعامیۃ)۔