کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے داماد مسمٰی محمد اکرم ولد اللہ دتہ نے میری بیٹی مسماۃ شگفتہ بی بی بنت شبیر احمد کو تحریری طور پر تین طلاق کا طلاق نامہ لکھ کر ہمیں واٹس ایپ کردیا ہے، جس کی کاپی منسلک ہے، الفاظ طلاق یہ ہیں " کہ میں اپنی منکوحہ بیوی مسماۃ شگفتہ بی بی مذکوریہ کو بحواس خمسہ خود بلا جبر و اکراہ ِغیرے طلاق ثلاثہ دے رہا ہوں اور طلاق، طلاق، طلاق دے کر اپنی حقوق زوجیت سے فارغ کرتا ہوں، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟ اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
منسلکہ طلاق نامہ کی کاپی اگر مطابق اصل ہو اور سائل کے داماد نے بغیر کسی جبر کے اس پر دستخط کردیے ہوں تو اس سے سائل کی بیٹی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کےبغیر باہم عقد ِنکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذادونوں پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرےسےعلیحدگی اختیارکریں،اورمیاں بیوی والا تعلق ہرگزقائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہ گارہونگے،جبکہ عورت ایامِِ عدت گزارنےکےبعداپنی مرضی سےدوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہے۔
وفی ردالمحتار: تحت(قولہ: طلقت بوصول الکتابۃ) الیہ(الی قولہ) ولو استکتب من آخر کتابا بطلاقھا وقرأہ علی الزوج فاخذ الزوج وختمہ وعنونہ وبعث بہ الیھا فاتاھا وقع الخ (ج3 صـ246 کتاب الطلاق ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھدایۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی المرأۃ أو ثیتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی اتنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت الخ(ج2صـ92 کتاب الطلاق ط: انعامیۃ)۔