کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ! اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے آٹھ سال پہلے اپنی بیٹی مسماۃ اقصی کی شادی مسمیٰ شوکت کے ساتھ کروائی تھی، میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کی وجہ سے شوہر نے وائس میسج کے ذریعہ طلاق دی اور یہ جملہ تین مرتبہ کہا تھا کہ"اقصی میں تجھے طلاق دیتا ہوں" جبکہ ابھی تین ماہ کی حاملہ ہے، اب مذکور واقعہ میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ رجوع کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں سائل کے داماد مسمیٰ شوکت نے جب سائل کی بیٹی "مسماۃ اقصی " کو بذریعہ وائس میسج مذکور الفاظ" میں تجھے طلاق دیتا ہوں" تین مرتبہ کہہ د یئے ہیں ، تو اس سے سائل کی بیٹی "مسماۃ اقصی " پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایام ِ عدت(بچے کی پیدائش) کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
في الهندية : إذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط ان كانت مدخولة طلقت ثلاثا وان كانت غير مد خولة طلقت واحدة الخ (ج1،ص 355، ط:ماجدیۃ)۔
وفیها ایضاً: وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان الخ (كتاب الطلاق،الباب الثالث عشر في العدة، ج1، ص 528، ماجدیۃ)۔