السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسماۃ ۔۔۔۔ کا نکاح مسمی ۔۔۔۔ سے ہوا تھا، جس سے ہمارے دو بچے ہیں ، میرا شوہر نشہ وغیرہ کرتا تھا، اس لئے میں نے 2021 میں عدالت سے خلع لے لی تھی ، جس میں شوہر کی رضامندی شامل نہیں تھی ، اب ہم دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں، لہذا رہنمائی فرمائیں کہ اب تین سال بعد ہمارا ایک ساتھ رہنا درست ہے یا نہیں ؟ جبکہ میرے شوہر نے کبھی کوئی زبانی طلاق نہیں دی۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودمالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کی صحت اور درستگی کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور با قاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ،چنانچہ سائلہ کے شوہر یا اس کی طرف سے مقرر کردہ وکیل نےاگر عدالت میں حاضر ہو کر اس خلع پر اپنی رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو،تو عدالت کی جانب سے خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود میاں بیوی کا نکا ح ختم نہ ہوا تھا، بلکہ بدستور برقرار تھا، لہذا اب اگر میاں بیوی ساتھ رہنا چاہتے ہوں، تو ان کا تجدیدِ نکاح کئے بغیر بھی حسبِ سابق میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا شرعاً جائز اور درست ہے ۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا: إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين, فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان؟ وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع(الی قولہ) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ ( ج2 ص 239 مطلب البیان من اللہ تعالی علی وجہین ط العلمیہ)
وفی بدائع الصنائع: وأما رکنہ فھو الإیجاب والقبول لأنہ عقد علی الطلاق بعوض فلا تقع الفرقۃ، ولا یستحق العوض بدون القبول الخ (کتاب الطلاق فصل فی رکن الطلاق ج 3 صـ 145 ط: دار الکتب العلمیۃ)