السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں نے پوچھا ہے کہ اگر شوہر ایک دفعہ طلاق بولے اور دوسری دفعہ لفظِ آزاد بولے تو کیا یہ لفظ آزاد بولنے سے طلاق بائن ہوتی ہے اور نکاح ختم ہوجاتا ہے، رہنمائی فرمائیے، جزاک اللہ خیراً۔
سائلہ کا سوال پوری طرح واضح نہیں کہ شوہر نے طلاق کے کون سے الفاظ کہے تھے، تا کہ اس کے مطابق جواب دیا جاسکے، تاہم اگر شوہر پہلی دفعہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" وغیرہ جیسے صریح الفاظ میں بیوی کو طلاق دے اور اس کے بعد اسی وقت " میں تمہیں آزاد کرتا ہوں" یا تم آزاد ہو وغیرہ جیسے جملے استعمال کرے ، تو آزاد ہو کا لفظ چونکہ عرف میں صریح طلاق کے لئے استعماال کیا جاتا ہے، اور اس سے بلا نیت بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، اس لئے اس دوسرے جملے سے بھی طلاق رجعی واقع ہوگی جو پہلی طلاق کے ساتھ ملکر مجموعی طور پر بیوی پر دو رجعی طلاقیں ہوجائیں گی، اور عدّت گزرنے سے قبل نکاح بالکلیہ ختم نہ ہوگا، بلکہ شوہر کو عدّت کے دوران رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
کما فی ردالمحتار : تحت (قوله حرام) (الی قولہ)فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (3/299 باب الکنایات ط سعید)۔
وفی الدرالمختار: (الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح،الخ (ج3 ص306 باب الکنایات ط سعید)۔