السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،مفتی صاحب !
میرا سوال یہ ہے میں اپنی وائف کے ساتھ بیڈ پرلیٹا ہوا تھا میری وائف نے کہا میں تھک گئی ہوں جاؤ نہانے کے لئے ٹینکی سے پانی اپنے لئے بھی بھرو اور میرے لئے بھی، میں نے اسے کہا میں خود اٹھ نہیں پا رہا اور پھر کچھ سیکنڈ کے بعد میں "ون ٹو تھری گو" کہتے ہوئے اٹھا، جب میں "ون ٹو تھری گو " کہتے ہوئے اٹھ رہا تھا تو میرے دماغ میں طلاق کے کچھ وسوسے آگئے، پر میری جو نیت تھی وہ "ون ٹو تھری گو" کہتے ہوئے اٹھنے کی تھی، تو میں "ون ٹو تھری گو " کہتے ہوئے اٹھا ،اور میں نے نہانے کے لئے پانی بھرا، نہایا اور پھر میں ڈیوٹی پر چلا گیا ،پر وسوسے مجھے پھر بھی آرہے تھے تو میں جہاں ڈیوٹی کرتا ہوں، وہاں ایک چارپائی تھی اس پر میں لیٹا ہوا تھا اور میں نے سمجھنے کے لئے پھر سے وہ الفاظ کہے کہ میں خود اٹھ نہیں پا رہا اور "ون ٹو تھری گو " کہتے ہوئے میں اٹھا اور یہاں جب میں نے سمجھنے کے لئے یہ الفاظ کہے تو یہاں بھی میری کوئی طلاق کی نیت نہیں تھی، بس سمجھنے کے لئے کہہ رہا تھا ،پر وسوسے مجھے پھر بھی آرہے ہیں آپ مجھے بتائیں کہ جو میں نے الفاظ کہے ہیں کیا ان سے طلاق ہو جائے گی؟
سائل نے مذکور الفاظ "ون ٹو تھری گو" کہتے ہوئے اٹھتے وقت طلاق کے الفاظ باقاعدہ نہ کہے ہو ں ، بلکہ فقط اس وقت ذہن میں طلاق کے وسوسے آگئے ہوں ، تو اس سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، اس لئے سائل کو بلا وجہ پریشان ہونے اور ان وساوس کی طرف بار بار توجہ دینے کی ضرورت نہیں ، بلکہ اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے تاکہ ان وساوس کا سدِ باب ہوسکے ۔
کما فی رد المحتار: تحت (قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب الخ (کتاب الجھاد باب المرتد ج 4 صـ 224 ط: سعید)
وفی رد المحتار: تحت (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية الخ (کتاب الطلاق ج 3 صـ 230 ط: سعید)