السلام علیکم!
میں نے غصہ میں آکر یہ طلاق نامہ بنایا تھا، دماغ میں یہ تھا کہ اس طرح بنانے سے طلاق نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں کچھ جگہ خالی بھی ہیں اور اس پر سائن بھی نہیں کیا اور بیوی کو بھی نہیں دکھایا، صرف موبائل میں بنا کر رکھ لیا ہے، مگر دو دن پہلے جامعہ کی ویب سائٹ پر دیکھا کہ صرف لکھنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ پر اگرچہ سائل نے دستخط نہ کیےہوں اور طلاق والے جملوں میں اپنا اور بیوی کا نام بھی نہ لکھوایا ہو، لیکن طلاق نامہ کے ابتدائی حصہ میں درج تفصیل سے میاں بیوی کا تعین اور بعد والے جملوں سے سائل کا اپنی بیوی کو طلاق دینا ہی متعین ہوجاتا ہے، لہٰذا سائل کے فقط اس طلاق نامہ بنوانے سے ہی شرعاً اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ اھ ( سورۃ البقرۃ:230)۔
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً و إن کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق الخ ( الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج 1 ص 355 ط: ماجدیہ)۔
و فیھا ایضاً: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ (فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 1 ص 273 ط: ماجدیہ) ۔
وفی رد المحتار تحت: لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه، بخلاف ما لو ذكر اسمها أو اسم أبيها أو أمها أو ولدها فقال: عمرة طالق أو بنت فلان أو بنت فلانة أو أم فلان، فقد صرحوا بأنها تطلق، وأنه لو قال: لم أعن امرأتي لا يصدق قضاء إذا كانت امرأته كما وصف كما سيأتي قبيل الكنايات وسيذكر قريبا أن من الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام، فيقع بلا نية للعرف إلخ. فأوقعوا به الطلاق مع أنه ليس فيه إضافة الطلاق إليها صريحا، فهذا مؤيد لما في القنية، وظاهره أنه لا يصدق في أنه لم يرد امرأته للعرف، والله أعلم الخ ( باب الصریح ج 3 ص 248 ط: سعید)۔