السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نکاح ہوا تھا، رخصتی نہیں ہوئی، طلاق ہو گئی تھی ، نہ خلوتِ صحیحہ ہوئی، میں نےا سٹامپ پیپر پر لکھ کر دیا تھا کہ " میں احسان علی اپنی بیوی طوبی ناصر کو طلاق دیتا ہوں، پھر دوسری بار بھی ایسے اور تیسری بار بھی ایسے ہی لکھا تھا ، اب ہم دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں ، کیا کر سکتے ہیں ؟
واضح ہو کہ تحریری طور بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا سائل نے جب رخصتی اور خلوت سے قبل اپنی منکوحہ کو مذکور الفاظ " میں احسان علی اپنی بیوی طوبی ناصر کو طلاق دیتا ہوں " الگ الگ مرتبہ کہہ دیے تو پہلی طلاق سے ہی دونوں کا نکاح ختم ہو چکا اور بقیہ الفاظِ طلاق محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے لغو ہو گئے ہیں، اور چونکہ اس صورت میں مطلقہ پر عدت لازم نہیں، لہذا فی الفور وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، البتہ اگر باہمی رضا مندی سے دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں، تاہم اس صورت میں آئندہ کیلئے سائل کے پاس فقط دو طلاقیں دینے کا اختیار ہوگا ، اس لئے طلاق کی معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
کما فی رد المحتار: تحت (قولہ وما بمعناھا من الصریح) أی مثل ما سیذکرہ من نحو: کونی طالقا واطلقی ویامطلقۃ بالتشدید، و کذا المضارع إذا غلب فی الحال مثل اطلقک کما فی البحر اھ (کتاب الطلاق ج3صـ248 ط: سعید)
وفی الھندیۃ: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة وقعت واحدة كذا في الهداية الخ (کتاب الطلاق الفصل الرابع ج 1صـ373 ط: ماجدیۃ)
وفیھا ایضاً: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها الخ (کتاب الطلاق الباب السادس ج 1 صـ 472 ط: ماجدیۃ)
وفیھا ایضاً: الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة (إلی قولہ) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق و تلزمها العدة من وقت الكتابة (کتاب الطلاق الفصل السادس ج1صـ378 ط: ماجدیۃ)