وضو

جس کو ہوا نکلنے کی بیماری ہو نماز کیسے پڑھے ؟

فتوی نمبر :
7679
| تاریخ :
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

جس کو ہوا نکلنے کی بیماری ہو نماز کیسے پڑھے ؟

وضو کیسے ٹوٹتا ہے؟ اگر ہوا بار بار خارج ہوتی ہو اور وضو ٹوٹ جاتا ہو،اس بیماری کے بارے میں شریعت کیا بتاتی ہے؟ کیا وضو ٹوٹےگا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ تمام نواقضِ وضو سے وضو ختم ہوجاتا ہے،مگر جو صورت سائل نے بیان کی ہے،اگر اس بیماری کے دوران کسی نماز کے پورے وقت میں اسے اتنا وقت نہ ملا ہو،جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کرسکتا تو اس صورت میں شرعا وہ معذور کے حکم میں داخل ہوجائےگا اور تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلا ادائیگی ظہر کے لیے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے،اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نماز ظہر ادا کرے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے پہلے ظہر کے اخیر وقت میں یہ وضو کرکے نماز ظہر ادا کرے،اس کے بعد نماز عصر کی ادائیگی کے لیے پورا وقت انتظار کرنے کی ضروری نہیں،بلکہ اس وقت جماعت سے پہلے وضو کرکے نماز عصر باجماعت ادا کرلے،اس دوران اگر ریح خارج بھی ہوجائے تو اس سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا،اسی طرح مغرب وعشاء میں بھی وہ ایسا ہی کرے کہ ہر نماز کے لیے الگ الگ وضو کرلیا کرے،اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وجو نہ پایاگیاتو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹےگا،البتہ اس دوران اگر پورا وقت نماز کوئی ایسا گزرجائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو تو شرعا وہ معذور نہیں رہیگا،اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) (الی قولہ) (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه. (1/ 305)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 7679کی تصدیق کریں
0     480
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات