السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ گزشتہ رات میرے شوہر نے بہت زیادہ نشہ کیا ہوا تھا اور ہماری لڑائی ہوئی تھی ،میں اپنی والدہ کے گھر آئی ہوئی تھی، انھوں نے میرے بھائی کو کال کی کہ میری بیوی سے بات کراؤ، میں طلاق دوں گا، لیکن اس نے مجھے نہیں دیا ۔پھر انھوں میری بڑی بہن کے واٹس ایپ پر وائس میسج کیا، جس میں انھوں نے مجھے تین بار کہا "میں طلاق دیتا ہوں" اور پھر انھوں نے کہا اپنی بہن کو سنادوں کہ "کنول میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی اور میں نے تجھے طلاق دی تین بار ہوگئی" اور صبح بول رہے ہیں کہ میں نے نہیں دی طلاق اور ہم اہلحدیث ہیں یہ ایک طلاق ہوئی ہے اور میں اہلسنت سے ہوں۔ براہ مہربانی مجھے بتائیں ہماری طلاق ہوئی ہے یا نہیں، وہ بول رہے ہیں کہ میں اہلحدیث ہوں تو ہماری ایک طلاق ہوئی ہے، ہمیں جواب دیں تین طلاقیں ہوئیں ہیں یا نہیں؟
قرآن و سنت کی روشنی میں باجماع صحابہ و تابعین رضی اللہ عنھم اجمعین و باتفاق ائمہ اربعہ (امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل) رحمھم اللہ تین طلاقیں چاہے ایک مجلس میں اور ایک ہی جملہ کے ساتھ دی جائیں یا مختلف مجالس میں اور الگ الگ جملوں کے ساتھ دی جائیں تو اس سے تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوجاتی ہے، قرآن کریم کی نصوصِ قطعیہ، احادیث صحیحہ اور آثارِ صحابہ و تابعین اور فقہائے کرام رحمھم اللہ کی تصریحات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ بیک وقت تین طلاقیں دینا اگر چہ ناپسندیدہ ہو مگر اس طرح یکمشت تین طلاقیں دینے سے تین ہی طلاقیں واقع ہوتی ہیں، چنانچہ سائلہ کے شوہر نے اگرواقعۃً وائس میسج میں اگر چہ نشہ کی حالت میں ہو مذکور الفاظ "کنول میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی اور میں نے تجھے طلاق دی تین بار ہوگئی" ریکارڈ کرکے سائلہ کی بڑی بہن کو ارسال کی ہو، تو مذکور الفاظ کہنے سے سائلہ پرتینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کےبعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]،وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ(کتاب الطلاق ج۳،ص۱۸۷،ط: دارالکتب العلمیہ)۔
وفی الدرالمختار:(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق اھ (کتاب الطلاق ج۳ ، ص۲۳۵ ، ط: سعید)۔