السلام علیکم! میں نے اپنی بیوی کو جھوٹ بولنے اور زبان دراز ہونے کی وجہ سے صرف ڈرانے کے لیے مصنوعی غصہ کے ساتھ طلاق کی نیت کے بغیر مکمل ہوش اور حواس میں ان حرفوں اور درست تلفظ کے ساتھ ت ،لا، ک دو دفعہ لفظ تلاک کہا ہے اب وہ میکے میں ہے اور اس کے علم میں بھی ہے کہ لفظ تلاک کہا ہے نہ کہ طلاق تو کیا اس لفظ تلاک سے طلاق تو واقع نہیں ہوگی؟ براہ کرم اس پر فتوی دیجیےشکریہ۔
و اضح ہو کہ لفظ "طلاق" کے بجائےلفظ "تلاک "کہنے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہذا سائل نے جب اپنی بیوی کومذکور الفاظ "میں تمہیں تلاک دیتا ہوں "دو دفعہ کہے اگر چہ ڈرانےودھمکانےکی نیت سے کہے ہوں تب بھی تو اس سے بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوچکی ہیں ، جس کے بعد دوران عدت سائل کو رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے،چنانچہ اگر سائل دوران عدت قولا(میں رجوع کرتا ہوں جیسے الفاظ کہہ کر ) یا عملا بوس وکنار یا میاں بیوی والا تعلق قائم کرکےرجوع کرلیتا ہے ،تو ایسا کرنے سے میاں وبیوی کا نکاح حسب سابق بر قراررہے گا ، جبکہ دوران عدت رجوع نہ کر نے کی صورت میں یہ طلاق طلاق ِ بائن بن کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجائیگا ،چنانچہ اس نکاح کے ختم ہو جانے کے بعد اگر یہ دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں ،تو اسکے لئے باہمی رضامندی سےباضابطہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب وقبول کرکےدوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا ، مگر بہر دو صورت آئندہ کے لئے سائل کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کےمعاملہ میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح ويدخل نحو طلاغ وتلاغ وطلاك وتلاك أو " ط ل ق " أو " طلاق باش " بلا فرق بين عالم وجاهل، وإن قال تعمدته تخويفا لم يصدق قضاء إلا إذا أشهد عليه قبله وبه يفتى الخ( ج 3 ص 249)۔
وفی الھدایۃ: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي الخ(باب ایقاع الطلاق،ج 2،ص 61،ط: انعامیہ)۔
وفی الھندیۃ: (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن الخ(ج 1،ص 348)۔