کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اور میرے شوہر کی میسج پر لڑائی کے دوران میرے شوہر نے کہا"جاؤ میں نے تمہیں ایک طلاق دی اپنے ہوش وحواس میں" جس کے جواب میں میں نے کہا تین طلاقیں دیں اور ابھی دیں،اس کے جواب میں شوہر نے کہا "طلاق،طلاق،طلاق" جب کہ شوہر کا کہنا ہے میری نیت طلاق کی نہیں تھی، اب ہمارے لئے کیا حکم ہے، رہنمائی فرمائیں۔
سوال کے ساتھ منسلکہ صفحہ پر سائلہ اور اس کے شوہر کے درمیان طلاق کی جو بات چیت ہوئی ہے،اس کی رو سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،جبکہ چوتھی طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی ردالمحتار تحت: (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب (إلی قولہ) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة اھ (ج3،ص246 ،ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیہ)۔