میرے داماد نے میری بیٹی کو اس طرح طلاق دی کہ "میں نے تجھے طلاق دی دی دی "ایک وقت میں اور ایک سانس میں، میری بیٹی نے شروع کا لفظ سنا ہے اور ان کے تین بچے ہیں، بڑا بیٹا 16 سال کا ہے، دوسرا بیٹا 13 سال کا ہے،اور تیسری بیٹی 8 سال کی ہے۔
شوہر کا بیان یہ ہے کہ بچوں کی وجہ سے لڑائی جھگڑا ہوا اور مجھے بیوی کی باتوں سے بہت غصہ آیا، تو غصہ کی حالت میں میں نے اپنی بیوی کو کہا "میں نے تمہیں طلاق دی ، دی، دی " طلاق کا لفظ ایک ہی مرتبہ بولا تھا،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں، اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مسمیٰ محمد آصف نے غصے کی حالت میں جو الفاظ کہے اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کےبعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی رد المحتار: ويقع طلاق من غضب الخ (مطلب فی طلاق المدھوش، ج 3، ص 244، ط: سعید)۔
و فیہ ایضاً: أن من وصل في الغضب إلى حالة لا يدري فيها ما يقول يقع طلاقه الخ (مطلب فيما لو حلف وأنشأ له آخر، ج 3، ص 369، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج الخ(کتاب الطلاق،ج1،ص355،ط:ماجدیہ)۔