میرے شوہر نے آٹھ سا ل پہلے مجھے نوٹس کے ذریعے دو طلاق دیدی تھیں اورپھر تیسرے مہینے صلح ہو گئی اور ہم نے رجوع کرلیا اورمیں شوہر کے گھر چلی گئی اور آج آٹھ سال بعد میرے شوہر نے یہ الفاظ ادا کئے ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،اورمیں نے تمہیں ایک طلاق دی ہے،تو میری رہمائی کرے کہ کیا یہ طلاق ہوگئی ہے،يا پھرسے رجوع کیاجاسکتاہے،اورکتنا ٹائم ہے رجوع کا؟
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے آٹھ سال قبل واضح اور صریح الفاظ جیسے"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "کے ذریعہ سائلہ کو تحریری طور پر دو طلاقیں دینے کے بعد عدت کے دوران رجوع کر لیا ہو ، تو شرعاً بھی یہ رجوع درست ہو کر میاں بیوی کا نکاح حسب سابق بر قرار تھا ،لیکن اس کے بعد شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی تھا، چنانچہ اب حالیہ واقعہ میں جب سائلہ کے شوہر نے مذکور الفاظ" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "کہہ دیئے ،تو شوہر کے ان الفاظ کہنے سے سائلہ پر تیسری طلاق بھی واقع ہو کر مجموعی طور پر تین طلاقوں سےحرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی ۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقد نکاح کرے چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر پر شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا تاکہ زوج اول کے لئے عورت حلال ہو جائے ، مکروہ تحریمی ہے ، اور اس پر احادث مبارکہ میں وعید وارد ہوئی ہے ، لہذا اس طرح کرنے سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
قال اللہ تعالی: فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَـهٝ مِنْ بَعْدُ حَتّـٰى تَنْكِـحَ زَوْجًا غَيْـرَهٝ ۗ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يَّتَـرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّـآ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّـٰهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ الایۃ(بقرہ۔آیۃ 230)۔
و فی بدائع الصنائع: واما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک وزوال المحلیۃ ایضا ، حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر الخ (فصل۔حکم الطلاق الثلاث ۔ج 3 ص 187)۔
وفی الھدایۃ: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي الخ(باب ایقاع الطلاق،ج 2،ص 61،ط: انعامیہ)۔
وفی الدر المختار: وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس ولو منها اختلاسا، أو نائما، أو مكرها أو مجنونا، أو معتوها إن صدقها هو أو ورثته بعد موته جوهرة ورجعة المجنون بالفعل بزازية الخ( ج 3 ص 398 ط:سعید)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0