السلام علیکم ! گزارش یہ ہے کہ مجھے یہ بتائیں کہ اگر کسی کے خاندان کے قریبی کسی رشتہ دار نے اپنے دین اسلام کو ترک کر دیا ہو اور وہ کسی ہندو لڑکے سے شادی کرکےہندو مذہب کو اختیار کر لیں اور خاتون اسلامی مملکت میں نہیں رہتی، بلکہ امریکہ میں رہتی ہے ان کے ساتھ رشتہ داری کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور اب ان کے بچے بھی بڑے ہو گئے ہیں اور وہ ہندو مذہب کے ماننے والے ہیں اور اسی مذہب میں امریکہ میں تربیت ہوئی اور اپنے بچوں کے نام بھی انھوں نے ہندوؤں والے رکھے ، مہربانی کر کے بتائیے گا کہ جو مسلمان باقی رشتہ دار ہیں چاہے ان کے اپنے ماں باپ ہوں قریبی رشتہ دار ہیں جو بھی ہوں اور جہاں کہیں بھی رہائش پذیر ہوں، ان کا اس صورتحال میں کیا شرعی حکم ہے؟ کیا ان کے ساتھ وہ تعلق اپنا رکھ سکتے ہیں رشتہ داری یا میل جول سلام دعا قائم رکھ سکتے ہیں؟یا ان کو چاہیئے کہ ان سے دوری اختیار کریں ، اپنی معلومات کے مطابق میں نے اس بات کی کافی مذمت کی ہے کیونکہ کچھ کزنز وغیرہ ان لوگوں سے تعلق قائم رکھے ہوئے ہیں اور پیغام تہنیت اور محبت اس فیملی کو بھیجتے ہیں۔ جزاک اللہ السلام علیکم
واضح ہوکہ جو مرد یا عورت اسلام چھورکر العیاذ باللہ مرتد ہوجاتا ہے اور وہ دار الاسلام میں نہ ہو اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی عدالتی کاروائی کی جا سکتی ہو ، تو اس کے والدین اور رشتہ داروں کو چاہیئے کہ اس کے ساتھ رشتہ داری یا میل جول سلام دعا قائم رکھنے اور قلبی تعلق و لگاؤ سے اجتناب کریں ، لہذا صورتِ مسئولہ میں بھی سائل کے کزنز کو چاہیئے کہ سوال میں مذکور مرتد عورت کو پیغام تہنیت و محبت بھیجنے اور اس کے ساتھ قلبی تعلق رکھنے سے احتراز کریں ، البتہ اگر نرمی سے پیش آنے کی صورت میں ان کے اسلام کی طرف راغب ہونے کی امید ہو تو اسلام کی طرف مائل کرنے کی نیت سے ان سے اچھے سلوک سے پیش آنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
قال الله تعالى : لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ( سورة الممتحنة، الأية : 8)-
وفي التفسير المنير للزحيلي : {لا يَنْهاكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ، وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ، وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ، إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ} أي لا يمنعكم الله من البرّ والإحسان وفعل الخير إلى الكفار الذين سالموكم ولم يقاتلوكم في الدين كالنساء والضعفة منهم، كصلة الرحم، ونفع الجار، والضيافة، ولم يخرجوكم من دياركم، ولا يمنعكم أيضا من أن تعدلوا فيما بينكم وبينهم، بأداء مالهم من الحق، كالوفاء لهم بالوعد، وأداء الأمانة، وإيفاء أثمان المشتريات كاملة غير منقوصة، إن الله يحب العادلين، ويرضى عنهم، ويمقت الظالمين ويعاقبهم. والمقصود بالآية أن الله سبحانه لا ينهى عن برّ أهل العهد من الكفار الذين عاهدوا المؤمنين على ترك القتال، وعلى ألا يعينوا عليهم، ولا ينهى عن معاملتهم بالعدل، مثل خزاعة، وغيرهم الذين عاهدوا رسول الله صلى الله عليه وسلم على ترك القتال ( ج 28، ص 135، ط : دار الفكر، دمشق)-
وفی الفتاوى الهندية : لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية ( الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم، ج 5، ص 346، ط : دار الفكر، بيروت)-
و في المبسوط للسرخسي : ولا بأس بعقد الهبة بين المسلم والذمي في حال الحياة والأصل فيه قوله تعالى: {لا ينهاكم الله} [الممتحنة: 8] إلى قوله: {أن تبروهم وتقسطوا إليهم} [الممتحنة: 8] الخ ( كتاب الوصايا، ج 27، ص 146، ط : دار المعرفت، بيروت)-