کیا فر ماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام ! اس مسئلہ کے بارےمیں کہ آج سے چار سال قبل فاطمہ کی راشد خان کے ساتھ شادی ہو ئی ، شادی کے ابتداء میں ہی فاطمہ کو معلوم ہوگیا کہ راشد خان جنسی طور پر کمزور ہے ،اور اس میں اولاد پیدا کرنے کی جراثیم نہیں ہے ، کئی جگہ سے علاج کرایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے اس کو لاعلاج قرار دیا، جبکہ فاطمہ میں کمزوری نہیں ہے،اب فاطمہ ناامیدی اور مجبوری کی وجہ سے طلاق لیناچاہتی ہے ،تو کیا ازروئے شرع فاطمہ کا طلاق کا مطالبہ درست ہے ؟کیا فاطمہ طلاق کے ساتھ مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے ؟کیا جہیز کا سامان جو فاطمہ کو اس کے والدین کی طرف سے ملا ہے اس کا مطالبہ کر سکتی ہے ؟راشدخان کے علاج کے اخراجات اور اس کے لئے آنے جانے کے اخراجات اکثر فاطمہ نے کیے ہیں تو کیا فاطمہ ان اخراجات کا مطالبہ کر سکتی ہے ؟نیز کچھ رقم (تقریباًساٹھ ہزار روپے )فاطمہ نے اپنے شوہر کو دی تھی کیا اس رقم کا مطالبہ کر سکتی ہے ؟اگر راشد خان طلاق پر راضی نہ ہو تو جدائی کی کیا صورت ہو سکتی ہے ؟یا اگر شوہر طلاق ,مہر کے عوض دینا چاہتا ہو تو کیا اس کے لئے مہر نہ دینا جائز ہو گا ؟
سوال میں اس بات کی صراحت موجود نہیں کہ شوہر مسمیٰ راشدخان ہمبستری اور جماع پر قادر ہے یا نہیں ؟تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جا تا ، تاہم اگر شوہر جماع اور ہمبستری پر قادر ہو اور نکاح کے بعد میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہو چکا ہو تو ایسی صورت میں بیوی کو طلاق اور علیحدگی کا حق حاصل نہیں ہو گا ، البتہ اگر میاں بیو ی کا نباہ ممکن نہ ہواور شوہر حق مہر کی معافی کے بغیر طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو بیوی کو چاہیئے کہ وہ حق مہر کی معافی کے عوض شوہر سے طلاق اور خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کرے تاکہ وہ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ شادی کرسکے ،جبکہ بیوی نے شوہر کے علاج ومعالجے پرجو اخراجات کیے ہیں اگر اس کے قرض ہونے یا واپس لینے کی صراحت نہ کی ہو تو ایسی صورت میں بیوی کے لئے شوہر سے ان اخراجات کے مطالبے کاحق نہ ہوگا ، البتہ ساٹھ (60000)ہزار کی رقم اگر بیوی نے اپنے شوہر کو بطور قرض دی ہو تو اس کا مطالبہ کرنا جائز ہو گا ، اسی طرح جہیز کا سامان چونکہ بیوی کی ملکیت ہو گا اس لئے بیوی کے لئے اس کی واپسی کا مطالبہ بھی شرعاً جائز اور درست ہو گا ۔
کمافي الهندية : والمهر یتأكد بأحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين سواء كان مسمىً أو مهرالمثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالابراء من صاحب الحق كذا في البدائع الخ (ج 1، ص 33، ط: ماجدية)
وفی ردالمحتار: أن يحكم بكون الجهاز ملكا لا عارية لأن الظاهر الغالب إلا في بلدة جرت العادة بدفع الكل عارية فالقول للأب. وأما إذا جرت في البعض يكون الجهاز تركة يتعلق بها حق الورثة هو الصحيح.(ص157ج3)۔
وفیہ ایضاً: (وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) لو دفع إلى رجل ثوبا، وقال: ألبس نفسك، ففعل يكون هبة(کتاب الھبۃ:ج5 ص288۔289)۔
کما فی تنقیح الحامدیۃ:المتبرع لایرجع بما تبرع بہ علی غیرہ کما لوقضی دین غیرہ بغیر امیر ہ (کتاب الدینات ج2 ص391 ط:قدیمی )