زید نے پہلے ایک طلاق کا ل پر دی ،پھررجوع ہوگیا ،پھر وہ عورت چلی گئی دس دن گزارنے کے بعد، شوہر نے کہا کہ میں نے تو تین طلاق دی تھی تم نے کال کاٹ دی تھی، اب اس بات کو ڈیڑھ سال گزر گیا ہے، تو اب ایسی عورت کی طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟اوراگر ہوئی ہے تو اس عورت کی عدت کے بارے میں کیا حکم ہوگا ؟
صورت مسؤلہ میں نکاح اور خلوت صحیحہ ہو جانے کے بعد اگر شوہر واضح اور صریح الفاظ طلاق جیسے "میں تمہیں طلاق دیتا ہو ں"کے ذریعے تین طلاق دینے کا اقرار کر تا ہو ،اگر چہ بیوی نے طلاق کے الفاظ ایک ہی بار سنے ہوں ،تب بھی اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،اور اس دورانیہ میں اگرعورت حمل سے نہ ہو،اور اس پر تین ماہواریاں گزرچکی ہوں،تو اس کی عدت مکمل ہو چکی ہے ،اور اب وہ عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہے
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ( البقرۃ آیت نمــبر230)۔
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً و إن کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق الخ ( الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج ۱ ص ۳۵۵ ط: ماجدیہ)۔
وفی الھدایۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی المرأۃ أو ثیتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی اتنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت الخ(ج2صـ92 کتاب الطلاق ط: انعامیۃ)۔
وفی الدرالمختار:کررلفظ الطلاق وقع الکل وان نوی التاکیددین(کتاب الطلاق ج3 ص293ط:سعید)۔