کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی تھیں "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "عدت گزار نے کے بعد اس نے کسی اور شخص سے نکاح کیا ان کے ساتھ کچھ عرصہ رہی لیکن وہاں سے بھی طلاق ہو گئی ،پھر عدت گزار کر دوبارہ میرے ساتھ نکاح کیا اور اس کے بعد ہمارا ایک بچہ بھی پیدا ہوا ،اب گزشتہ دنوں پھر لڑائی ہوئی اور میں نے پھر دو مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے کہ "تمہیں طلاق دیتا ہوں "اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارے لئے رجوع کرنے کی گنجائش ہے کہ نہیں ؟ یا ہماری تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ بن گئی ہیں ؟جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں
سائل کی بیوی نے دو طلاقوں کے بعد عدت گزار کر جب کسی دوسرے شخص سے شادی کی اور پھر اس دوسرے شخص نے کچھ عرصے کے بعد اسے طلاق دی جسکے بعد عورت نے عدت گزار کر دوبارہ سائل کے ساتھ نکاح کر لیا تو ایسی صورت میں سائل کو از سر نو تین طلاقوں کا اختیار حاصل ہو چکا تھا ، چنانچہ اب جب سائل نے مذکور الفاظ"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کے ساتھ اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیدی ہیں تو اس سے سائل کی بیوی پر دو رجعی طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ، جن کا حکم یہ ہے کہ سائل کو دروانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہے ، چنانچہ سائل اگر دورانِ عدت قولاً یا عملاً رجوع کرلیتا ہے تو یہ رجوع درست ہو گا اور میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق بر قرار رہے گا ،ورنہ عدت کے دوران رجوع نہ کرنے کی صورت میں یہ رجعی طلاقیں بائن بن جائیں گی اور اس سے دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا ، جسکے بعد دوبارہ میاں و بیوی کی طرح ساتھ رہنے کے لئے باقاعدہ گواہان کی موجود گی میں باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، بہر صورت آئندہ کے لئے سائل کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کےمعاملہ میں خوب احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کما فی رد المحتار:تحت(قوله وهي مسألة الهدم الآتية) أي في آخر باب الرجعة، وهي أن الزوج الثاني يهدم ما دون الثلاث كما يهدم الثلاث، فمن طلق امرأته واحدة أو أكثر ثم عادت إليه بعد زوج آخر عادت إليه بملك جديد فيملك عليها ثلاث طلقات، وهذا عندهما الخ(ج 3ص 337)۔
وفی الھندیۃ: (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن الخ(ج 1،ص 348)
وفی الھدایۃ: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي الخ(باب ایقاع الطلاق،ج 2،ص 61،ط: انعامیہ)۔