کیافرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ اکرام اللہ ولد غنی مولا اپنی بیوی مسماۃمہر یاکنول بنت امیر احمد خان کو زبانی اور تحریری طورپر تین طلاق دے چکاہوں،زبانی الفاظ یہ تھے "میں آپ کو طلاق دے رہا ہو ں " پھر تین مرتبہ بولا طلاق ،طلاق ،طلاق ، اس کے بعد منسلکہ تحریرلکھ کر بھیج دی ،اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہو ئیں ، اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ جبکہ میری بیوی کا کہنا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی ہے ، وہ پھر سے گھر آباد کرنے کی فکر میں ہے ، جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں ۔
واضح ہو کہ سائل نے جب اپنی بیوی مسماۃ مہر یاکنول بنت امیر احمد خان کو زبانی طورپر مذکور الفاظ "میں آپ کو طلاق دے رہا ہو " بولے پھر تین مرتبہ " طلاق ،طلاق ،طلاق " کہہ کر منسلکہ تحریری طلاق نامہ بھی بھیج دیا تواس سےسائل کی بیو ی پرمجموعی طور پرتین طلاقیں واقع ہوکرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغوہوگئی ہیں،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اورحلالۂ شرعیہ کےبغیرباہم عقدِنکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذادونوں پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرےسےعلیحدگی اختیارکریں،اورمیاں بیوی والا تعلق ہرگزقائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہ گارہوں گے،جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنےکےبعداپنی مرضی سےدوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان سے اپنا عقد ِنکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق لئے ضروری ہے ) کےفوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ کے بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہرصورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دے گا ، تاکہ زوج ِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے، یہ مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر حدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا جائز اور درست ہے
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة(الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج1 ص355 ط:ماجدیہ)۔
وفی الھدایۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ،أوثنتین فی الأمۃ،لم تحل لہ حتی تنکح زوجاًغیرہ نکاحاًصحیحاً،ویدخل بھا،ثم یطلقھاأیموت عنھا الخ(ج2صـ92 کتاب الطلاق ط: انعامیۃ)۔
وفی رد المحتار تحت : ( قولہ طلقت بوصول الکتابۃ ) أی الیھا ( الی قولہ ) ولو استکتب من آخر کتاباً بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فأخذہ الزوج و ختمہ و عنونہ و بعث بہ الیھا فأتاہ و قع الخ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 246 ، ط : سعید )۔