طلاق

"میں ذہنی طور پر تمہیں طلاق دے چکا ہوں " کہنے کا حکم

فتوی نمبر :
73815
| تاریخ :
2024-06-09
معاملات / احکام طلاق / طلاق

"میں ذہنی طور پر تمہیں طلاق دے چکا ہوں " کہنے کا حکم

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم !
میں مندرجہ ذیل مسئلہ میں آپ کی رائے بمطابق قرآن و سنت کے حاصل کرنے کے لئے پیش کر رہا ہوں ، عمرو کی میری بیٹی سے 12 اکتوبر 2022 کو کراچی میں طے پائی ،عمرو کا رویہ اپنی بیوی کلثوم کے ساتھ ابتدا ہی سے منفی اور حاکمانہ رہا ، حتی کہ شادی کے دن جبکہ نکاح کے بعد ابھی دلہن شادی ہال سے رخصت بھی نہ ہوئی تھی، اسے عمرو جو اب اسکا شوہر بن چکا تھا ،اس نے کہا کہ مجھے تو آپ اچھی نہیں لگی اور یہ شادی زبردستی میرے بھائیوں نے مجھ پر دباؤ ڈال کر کروائی ہے ، بہر حال شادی کے بعد شوہر کے طعنہ و تشنیع دن رات کا معمول بن گئے ، کلثوم کے ماں باپ یعنی ہمیں برا بھلا کہنا ، گھر کے کام کاج ٹھیک سے نہ کرنے کے طعنے اور عمرو کو شکل و صورت کے لحاظ سے کمتری کے طعنے روز کا معمول بن گئے تھے، اسی اثناء میں کلثوم حاملہ ہو گئی اور بعد ازاں اس کے بطن سے عمرو کی بیٹی کی پیدائش ہوئی ، اب بچی تقریبا8 ماہ کی ہو چکی ہے ،دوران حمل کئی مرتبہ عمرو نے کلثوم کو طلاق کی دھمکیاں دیں اور ایک مرتبہ یہ الفاظ استعمال کیے کہ " میں ذہنی طور پر تمہیں طلاق دے چکا ہوں" اس کے بعد دونوں ایک ساتھ رہ رہے تھے، جس سے رجوع بھی ہوگیا تھا، اسکے علاوہ ہر مرتبہ صیغہ مستقبل استعمال ہوا ، یعنی میں تمہارے گلے میں طلاق کا طوق ڈال کر ماں باپ کے پاس بھجوا دوں گا ،جہاں تم زندگی بھر تڑپتے ہوئے گزارو گی، اس تمام صورت حال نے کلثوم کے دل و دماغ کو بری طرح متاثر کیا اور وہ تقریباً ایک مریضہ بن کر رہ گئی ، عمرو کی تلخ گفتگو اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ وہ اپنی ہی معصوم بچی کو اسکی ماں کے سامنے منحوس کہہ کر پکارتا ہے اور طلاق کی دھمکیاں طعنہ و طنز کے نشتر تا حال جاری ہیں ۔
اس تمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہم نے کلثوم کو اپنے پاس بلا لیا ہے ، کلثوم عمرو کے ساتھ مزید زندگی نہیں بسر کرنا چاہتی اور وہ تنسیخ نکاح یا خلع کا حق استعمال کرنا چاہتی ہے۔
(1) کیا مذکورہ صورت میں جبکہ عمرو نے صیغہ ماضی استعمال کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ "میں ذہنی طور پر تمہیں طلاق دے چکا ہوں" کیا یہ طلاق واقع ہو چکی ہے ؟ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
(2) طلاق کی مسلسل دھمکیوں کہ شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اگر یہ صرف بد اخلاقی کے زمرے میں آتا ہے ،تو شریعت اس بد اخلاقی اور بد سلوکی پر کیا حکم دیتی ہے ؟
(3) اگر متاثرہ بیوی کلثوم خلع یا تنسیخ نکاح کا حق مذکورہ صورت میں استعمال کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے ؟ اور پاکستان کے قانون میں اسکے لیے عورت کے کیا حقوق ہیں ؟
نیز ہم آپ سے یہ درخواست بھی کرتے ہیں کہ آپ اس صورت حال میں قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کے حل کے لئے کیا تجویز عنایت فرمائیں گے ؟ہم آپ کے بہت مشکور اور احسان مند ہوں گے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سوال میں جو الفاظ مذکور ہے " میں ذہنی طور پر تمہیں طلاق دے چکا ہوں" یہ عرف میں طلاق دینے کے لئے استعمال نہیں کئے جاتے، بلکہ ان جیسے الفاظ کا استعمال مستقبل میں رشتہ کو ختم کرنے کے عزم و ارادہ کے طور پر ہوتا ہے، لہٰذا مسمیٰ عمرو کا اپنی بیوی کو مذکور الفاظ" میں ذہنی طور پر تمہیں طلاق دے چکا ہوں" کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ دونوں کا نکاح برقرار ہے۔
جبکہ سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو ،تو سائل کے داماد کا اپنی بیوی سے مذکور رویہ رکھنا شرعاً ناجائز اور انتہائی قبیح فعل ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہگار ہورہا ہے، اسے چاہیئے کہ وہ اپنے اس فعل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کے ساتھ بیوی کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرے، تاہم ہر قسم کی مصالحت کے باوجود سائل کا داماد اپنے مذکور رویہ سے باز نہ آتا ہو، جس کی وجہ سے میاں بیوی کے لئے ساتھ رہتے ہوئے اللہ کی حدود کی پاسداری کرنا ممکن نہ رہے، تو ایسی صورت میں بیوی کے لئے باہمی رضامندی سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ شوہر سے علیحدگی حاصل کرنے کی گنجائش ہوگی، مگر اس کے لئے شوہر کی رضامندی بہر صورت لازم ہوگی، محض عدالتی کاروائی سے یکطرفہ طور پر حاصل کی گئی خلع کی ڈگری سے ان دونوں کے درمیان علیحدگی متحقق نہیں ہوگی، لیکن شوہر اگر اس کے لئے تیار نہ ہو اور گھر بسا کر بیوی کا نان نفقہ اور دیگر حقوق بھی ادا نہ کرتا ہو تو ایسی صوت میں وہ حکماً متعنت شمار ہوگا، لہٰذا ایسی مجبوری میں حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر بذریعہ قضاءِ قاضی فسخِ نکاح کروایا جاسکتا ہے۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ مسلمان حاکم ( جج ) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو ، وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعوٰی صحیح ثابت ہوجائے ،تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے باوجود اگر وہ کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کردے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر نکاح فسخ ہوجائے گا، پھر فسخِ نکاح کے بعد عورت اپنی عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایۃ : و اذا تشاق الزوجان و خافا ان لا یقیما حدود اللہ : فلا باس بان تفتدی نفسھا منہ بمال یخلعھا بہ فاذا فعل ذلک وقع بالخلع تطلیقۃ بائنۃ ، و لزمھا المال الخ ( باب الخلع ج 2 صـــــ 138 ط : بشرٰی )۔
وفی احکام القرآن للجصاص: وقوله تعالى وعاشروهن بالمعروف أمر للأزواج بعشرة نسائهم بالمعروف ومن المعروف أن يوفيها حقها من المهر والنفقة والقسم وترك أذاها بالكلام الغليظ والإعراض عنها والميل إلى غيرها وترك العبوس والقطوب في وجهها بغير ذنب جرى مجرى ذلك نظير قوله تعالى فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان الخ ( ج 2 ص 109 ط: سہیل اکیڈمی )۔
وفی الحیلۃ الناجزۃ: "والمتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ : ان منعھا نفقۃ الحال فلہا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق او طلق و الا طلق علیہ الخ ( ص 73 )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73815کی تصدیق کریں
0     864
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • گھر والوں کی دباؤ میں آکر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
Related Topics متعلقه موضوعات