کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیوی ہمیشہ شوہر سے مطالبہ کرتی ہے کہ آپ مجھے چھوڑدو، طلاق دو، آزاد کرو، ایک دن غصّے میں شوہر نے بیوی کو طلاق کے مطالبے پر کہہ دیا کہ ٹھیک ہے "میری طرف سے تم آزاد ہو" آیا یہ طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟ اگر ہوگئی ہے تو کتنی ہوئی؟ پھر چھ سے آٹھ مہینے کے بعد شوہر نے ان الفاظ کے ساتھ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" دو بار طلاق دے دی، پھر بیوی نے کہا کہ آپ ایک طلاق کااختیار مجھے دے دو تو شوہر نے کہا کہ ٹھیک ہے آج کے بعد تم نے جب طلاق مانگی تو طلاق ہے تو بیوی نے طلاق مانگ لی تقریباً ایک سال کے بعد، اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ! شوہر نے بیوی سے اختیار لے لیا تھا پابندی ہٹا دی تھی، اور پہلے طلاق کے بعد رجوع بھی کرلیا تھا۔
واضح ہو کہ شوہر کا بیوی کو اس طرح کے الفاظ، یعنی " آزاد کرتا ہوں یا آزاد ہے" کہنا چونکہ عرف میں صریح طلاق کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، اس لئے اس سے بلانیت بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہٰذا سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران جب بیوی کو طلاق کے مطالبے پر مذکور الفاظ" میری طرف سے تم آزاد ہو"ایک مرتبہ کہے تو اس سے بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی تھی،جسکے بعد شوہر کو دورانِ عدّت رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا، چنانچہ اس کے بعد جب شوہر نے دورانِ عدت رجوع کرلیا تھا تو دونوں میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار تھا، تاہم آئندہ کیلئے اسکے پاس فقط دوطلاقوں کا اختیار باقی تھا،لیکن اس کے کچھ عرصے بعد جب شوہر نے بیوی کو مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" دو دفعہ کہے تو اس سے بیوی پر بقیہ دو طلاقیں بھی واقع ہوکر مجموعی طور پر تین طلاقوں کے ذریعے حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،اورعورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
و فی صحیح البخاری : قال الليث ، عن نافع : كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا ، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك " (5264)۔
و فی الدرالمحتار : كرر لفظ الطلاق وقع الكل، و إن نوى التأكيد دين ۔ (3/293)۔
و فی ردالمحتار : فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (3/299)۔