کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری دو بیویاں ہیں، وہ گھر میں آپس میں لڑ رہی تھیں، میں نے چھڑانے کی بھی کوشش کی ، سمجھانے کی بھی کوشش کی ، لیکن وہ نہیں مانی، تو میں نے بہت ہی غصہ کے عالم میں یہ الفاظ بولے کہ تم ددونوں مجھ پر طلاق ہو، تاسو دواڑہ پہ ما طلاقے یی، یہ جملہ میں نے تین مرتبہ بولا ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں دونوں کو طلاق واقع ہوئی ہے؟، اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
واضح ہوکہ غصہ کی حالت میں طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے لڑائی جھگڑے کے دوران جب اپنی دونوں بیویوں کو مذکور الفاظ"تاسو دواڑہ پہ ما طلاقے یی"( یعنی تم دونوں مجھ پر طلاق ہو)تین مرتبہ کہہ دئیے،تو اس سے اس کی دونوں بیویوں پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کمافی الدرالمختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق،الخ(ج3 ص286 باب طلاق غیر المدخول بہا ط سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (ج3 ص187 فصل وأما حکم البائن ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت مطلب في طلاق المدهوش(الی قولہ) ويقع الطلاق من غضب (الی قولہ) والذي يظهر لي أن كلا من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل كما هو المفتى به في السكران على ما مر،الخ(ج3 ص244 مطلب فی الطلاق المدھوش ط سعید)۔