کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میاں بیوی کے درمیان اگر ذہنی ہم آہنگی نہ ہو ، اوربیوی شوہر کی طرف سے ازدواجی و دیگر حقوق کی ادائیگی سے مطمئن نہ ہو، تو کیا وہ شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے یانہیں کہ آپ مجھے طلاق دیدیں تاکہ میں کسی اور جگہ نکاح کروں؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ نے اگرچہ اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ شوہر سے ازدواجی و دیگر حقوق کی ادائیگی سے مطمئن نہ ہونے سے اس کی کیا مراد ہے ؟
تاہم اگر اس کا شوہر کسی برے کردار و اخلاق کا مالک نہ ہو ،تو محض ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے یا ضروریاتِ زندگی پوری کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی یا تنگدستی کو بنیاد بنا کر ، طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا قطعاً درست نہیں، بلکہ اسے چاہیئے کہ اپنے شوہر کو حکمت کے ساتھ سمجھاتی رہے اور اُسے کچھ وقت دے ، تاکہ وہ سائلہ کو سمجھ سکے اور شوہر کو بھی چاہیئے کہ اپنی بیوی کے حقوق و ذمہ داریاں ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے، اور باہمی طور پر پیار و محبت کے ساتھ اس رشتہ کے نباہ کی کوشش کریں، البتہ تمام تر کوششوں کے باوجود بھی اگر دونوں کی ازدواجی زندگی میں بہتری کی کوئی صورت ممکن نہ ہو ، اور سائلہ کو بھی اس کے ساتھ رہتے ہوئے عفت و پاکدامنی کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو ، اور حدود اللہ کو قائم رکھنا ممکن نہ رہے، تو ایسی مجبوری کی صورت میں وہ طلاق یا خلع کے ذریعہ شوہر سے علیحدگی اختیار کرسکتی ہے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: وقوله تعالى وعاشروهن بالمعروف أمر للأزواج بعشرة نسائهم بالمعروف ومن المعروف أن يوفيها حقها من المهر والنفقة والقسم وترك أذاها بالكلام الغليظ والإعراض عنها والميل إلى غيرها وترك العبوس والقطوب في وجهها بغير ذنب جرى مجرى ذلك نظير قوله تعالى فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان وقوله تعالى فإن كرهتموهن فعسى أن تكرهوا شيئا ويجعل الله فيه خيرا كثيرا يدل على أنه مندوب إلى إمساكها مع كراهته لها وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم ما يوافق معنى ذلك حدثنا محمد بن بكر قال حدثنا أبو داود قال حدثنا كثير بن عبيد قال حدثنا محمد بن خالد عن معروف بن واصل عن محارب بن دثار عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق ، وحدثنا عبد الباقي بن قانع قال حدثنا محمد بن خالد بن يزيد النيلي قال حدثنا مهلب بن العلاء قال حدثنا شعيب بن بيان عن عمران القطان عن قتادة عن أبي تميمة الهجيمي عن أبي موسى الأشعري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوجوا ولا تطلقوا فإن الله لا يحب الذواقين والذوقات۔ فهذا القول من النبي صلى الله عليه وسلم موافق لما دلت عليه الآية من كراهة الطلاق والندب إلى الإمساك بالمعروف مع كراهته لها وأخبر الله تعالى أن الخيرة ربما كانت لنا في الصبر على ما نكره الخ( ج 2 ص 109 ط: سہیل اکیڈمی)۔