کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی، لیکن اب بیوی کہتی ہے کہ میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں اور شوہر کہتا ہے کہ میں نے دو طلاقیں دی ہیں اور ان کے بچے جن کی عمریں 15، 16 سال ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے دو طلاقیں سنی ہیں۔
اس مسئلہ کا حل شریعت کی روشنی میں عطا فرماکر عنداللہ مأجور ہوں۔
نوٹ!
بیوی مسماۃ عدل پاس حلفیہ بیان دیتی ہے کہ میں شادی میں گئی ہوئی تھی ، تاخیر سے آنے پر شوہر نے ایک بار صحن میں یوں طلاق دی کہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" اور آپ کو بھائی کے گھر چھوڑتا ہوں، پھر شوہر بچوں کے پیچھے کمرے میں گیا اور دو بار وہاں طلاق کا جملہ بولا کہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔
شوہر مسمیٰ محمد اسلام حلفیہ بیان دیتا ہے کہ صحن میں، میں نے کوئی طلاق کا جملہ نہیں بولا، جبکہ کمرہ میں دو بار " میں طلاق دے دوں گا" کا جملہ کہا تھا۔
ایک بیٹی مسماۃ نہال بھی حلفیہ بیان دیتی ہے کہ صحن میں طلاق کا کوئی جملہ نہیں بولا اور کمرہ میں یہ جملہ کہا کہ " میں تمہیں طلاق دے دوں گا، طلاق دیتا ہوں"۔
دوسری بیٹی مسماۃ لاریب حلفیہ بیان دیتی ہے کہ صحن میں طلاق کا کوئی جملہ نہیں بولا اور کمرہ میں دو بار یہ بولا کہ " تم مجھ پر طلاق، تم مجھ پر طلاق ہو"۔
جبکہ بیٹا مسماۃ محمد فیضان کا حلفیہ بیان ہے کہ صحن میں ابو نے طلاق کا کوئی جملہ نہیں بولا، جبکہ کمرہ میں دو بار یہ الفاظ بولے کہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں بیوی کے بیان کے مطابق حالیہ واقعہ میں شوہر نے پہلی بار صحن میں مذکور الفاظ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " اور دوسری مرتبہ کمرہ میں بچوں کے سامنے دو بار مذکور الفاظ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کہے تھے، لیکن بیوی کے پاس اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لئے شرعی شہادت موجود نہیں اور تینوں بچوں کا حلفیہ بیان بھی متضاد ہے ، جبکہ شوہر تین طلاقیں دینے سے انکاری ہے اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے کے لئے تیار ہے، جب ایسی صورت پیش آجائے کہ عورت تین طلاقوں کی دعویدار ہو ، مگر اس کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو اور شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو تو ایسی صورت میں " المرأۃ کالقاضی " کے اصول کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی ( جج ) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی تین طلاقوں پر گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گناہ گار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اُسے چاہیئے کہ حتی الامکان شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے، بلکہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
کما فی البحر الرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه الخ ( باب الطلاق الصریح، ج 3 ص 257 ط: ماجدیۃ )۔
وفی الھندیۃ: والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها الخ (الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج1 ص 354 ط: ماجدیۃ )۔
وفی رد المحتار تحت (قوله: كالقضاء باليمين الكاذبة) محترز قول المتن بشهادة قالوا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف، والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام معه، ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا وهذا لا يشكل إذا كان ثلاثا لبطلان المحلیۃ للإنشاء قبل زوج آخر وفيما دون الثلاث مشكل؛ لأنه يقبل الإنشاء وأجيب بأنه إنما يثبت إذ قضى القاضي بالنكاح وهنا لم يقض به لاعترافهما به، وإنما ادعت الفرقة زيلعي، وفي الخلاصة ولا يحل وطؤها إجماعا بحر الخ ( کتاب القضاء ج 5 ص 407 ط: سعید )۔
و فی فتاوی قاضی خان: وھم اصناف، صنف لا یکون کلامھم شھادۃ لعدم الاھلیۃ و اھلیۃ الشھادۃ انما تکون بالعقل الکامل والضبط والولایۃ علی التمییز بین المدعی والمدعی علیہ فلا تقبل شھادۃ الصبیان والمجانین ( الی قولہ ) فلا ینعقد النکاح بحضرتھم وکذلک شھادۃ النساء وحدھن الخ ( کتاب الشھادۃ ج 5 ص 421 ط: رشیدیۃ )۔