السلام علیکم !گزارش یہ ہے کہ میں ۔۔۔۔ بڑابوڈ میں رہتا ہو ں ، میں ماربل کا کام کر تا ہو ں اور میرا بڑا بیٹابھی مار بل کام کر تا ہے، مجھے بتائے بغیر میرے بیٹے نے محمدفرقان ولد ۔۔۔۔سے وقفہ وقفہ سے /500000+500000 +/100000اور 500000 ٹوٹل /2500000 پچیس لاکھ روپے لے کر کاروبار کیا جو کہ چند ماہ میں ہی ختم ہو گیا اور سارے پیسے ختم کر دیئے، ایک مرغی کے کاروبار کرنے والے سے بھی 100000 لاکھ روپے لے کر بھا گ گیا ، اور 1500000 لاکھ روپے ماربل والے کھاگئے ، اور مجھے جب معلوم ہوا سب ختم ہو چکا تھا ، اور اب نوبت یہ ہے کہ میرا بیٹا محمد ابراھیم نے گھر چھوڑدیا ہے ، اور اس کا والد پریشان ہیں ، اس مسئلے کا کوئی آسان حل بتائیں ،
نوٹ پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ میرابیٹا عاقل بالغ شادی شدہ ہے، کام کاروبار بھی مجھ سےالگ تھلگ تھا ، اور میرے علم میں لائے بغیر محمد فرقان سے رقم لی ، اور اس دوران محمد فرقان نے بھی مجھے کچھ نہیں بتایا جب تک کہ معاملہ ختم نہیں ہوا تھا ، اب معلوم یہ کر نا ہے کہ ایسی صورت میں مجھ پر ادائیگی کی کوئی ذمہ داری ہے ، اور مسمیٰ محمد فرقان مجھ سے رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے ؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں ۔
سائل کے مذکور بیٹے نے اپنے ذاتی کاروبار کے لئے مسمیٰ محمد فرقان سے جو قرض کی رقم لی ہے ،اگر سائل نے اس قرض کی ادائیگی کی کوئی ضمانت نہ لی ہو ، تو ایسی صورت میں قرض خواہ مسمیٰ محمد فرقان کا سائل (والد ) سے بیٹے کو دیئے گئے قرض کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
کمافی الھدایۃ: قال: "والمكفول له بالخيار إن شاء طالب الذي عليه الأصل وإن شاء طالب كفيله" لأن الكفالة ضم الذمة إلى الذمة في المطالبة وذلك يقتضي قيام الأول لا البراءة عنه، إلا إذا شرط فيه البراءة فحينئذ تنعقد حوالة اعتبارا للمعنى، كما أن الحوالة بشرط أن لا يبرأ بها المحيل تكون كفالة "ولو طالب أحدهما له أن يطالب الآخر وله أن يطالبهما" لأن مقتضاه الضم(کتاب الکفالہ ج3ص122 ط:رحمانیہ)۔
وفی مجلۃ الاحکام العدلیۃ: الْأَصْلُ بَرَاءَةُ الذِّمَّةِ.فإذَا أَتْلَفَ رَجُلٌ مَالَ آخَرَ وَاخْتَلَفَا فِي مِقْدَارِهِ يَكُونُ الْقَوْلُ لِلْمُتْلِفِ , وَالْبَيِّنَةُ عَلَى صَاحِبِ الْمَالِ لِإِثْبَاتِ الزِّيَادَةِ(الْمَادَّةُ 8ج1 ص17 ط:نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0