میں اور میری بیوی کمرے میں تھے ،میں نے تین دفعہ صرف" طلاق" بولا ،لیکن بیوی کا نہ تو نام لیا نہ اس کو یہ بولا کہ میں نے تمہیں دی، نہ کوئی دینے کی تصدیق کی ۔تو کیا ایسے طلاق ہو تو نہیں جائے گی؟
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کیلئے بیوی کا باقاعدہ نام لینا یا صراحتاً اس کی طرف نسبت کرنا ضروری نہیں، بلکہ اضافتِ معنویہ بھی اس کے لئے کافی ہے، لہذا سائل نے بیوی کی موجودگی میں اس سے بات چیت کے دوران نام لیے بغیر جو طلاق کے الفاظ تین مرتبہ استعمال کیے ہیں ،تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے۔ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہو سکتا ہے۔لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں گناہ گار ہوں گے۔ جبکہ سائل کی بیوی عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
کما فی تبیین الحقائق: قال رحمه الله : (و ثلاثا في طهر أو بكلمة بدعى) اى : تطليقها ثلاثا فى طهر واحد او بكلمة واحدة طلاق بدعى و كذلك الثنتان في طهر واحد او بكلمة واحدة الخ (کتاب الطلاق ، ج : 3 ، ص : 24 ، ط : دار الکتب العلميۃ)۔
و فی تبیین الحقائق: قال رحمہ اللہ: (الصریح ھو کانت طالق و مطلقۃ و طلقتک) لان ھذہ الالفاظ یراد بھا الطلاق و تستعمل فیہ لا فی غیرہ فکانت صریحا الخ (باب الطلاق ، ج : 3 ، ص : 39 ، ط : دار الکتب العلمیۃ)۔
و فى البحر الرائق: (قوله و ثلاثا في طهر او بكلمة بدعى) اى تطليقها ثلاثا متفرقة في طهر واحد او ثلاثا بكلمة واحدة بدعی ای منسوب إلى البدعة و المراد بها هنا المحرمة لانهم صرحوا بعصيانه و مرادہ بهذا القسم ما ليس حسنا و لا احسن الخ (کتاب الطلاق ، ج : 3 ، ص 239 ، ط : الماجدیۃ)۔
و فی الدر المختار: (کطلقتك و انت طالق و مطلقۃ) بالتشديد قيد بخطابها ، لانه لو قال : ان خرجت يقع الطلاق او لا تخرجي الا باذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الاضافة اليها الخ (باب الصريح ، ج : 3 ، ص : 247 ، ط : ایچ-ایم-سعید)۔
و فی رد المحتار تحت: ( قوله لتركه الاضافة ) اى المعنوية فانها الشرط و الخطاب من الاضافة المعنوية، و كذا الاشارة نحو هذه طالق الخ (باب الصريح ، ج : 3 ، ص : 248 ، ط : ایچ- ایم- سعید)۔