مذاق ،مذاق میں بیوی کو کوئی بات بری لگی تو وہ ہمارے دوسرے گھر جانے لگی میں نے بیوی کو گھر سے نکلنے سے منع کیا،لیکن وہ دوسرے گھر چلی گئی، میں بھی دوسرے گھر چلا گیا، وہاں میں نے بیوی کو کھانا کھاتے ہوئے سمجھاتے ہوئے کہا جو لڑکی گھر سے قدم باہر نکالتی ہے وہ آزاد ہوتی ہے۔ پھر ہم اپنے گھر جانے لگے وہ sorry کرنے کے لیے کمرہ کے دروازہ میں کھڑی ہو گئی میں نے کہا "آزاد ہو جو دل ہے کرو" انہو ں نے کہا دوباراہ کہو(وہ اکثر باتوں میں کہہ دیتی ہیں دوبارہ کہو) میں نے دوبارہ کہا "آزاد ہو جو دل ہوکرو"انہوں نے کہا ایسا نہیں کہتے (بعد میں ان سے میں نے پوچھا آپ نے ایسا کیوں کہا تھا کہ "ایسا نہیں کہتے" تو انہوں نے کہا میں نے کسی سے سنا تھا یہ لفظ کسی لڑکے نے بیوی کو کہے تو مفتی صاحب نے کہا تھا طلاق ہو گئی،بیوی نے جب کہا ایسا نہیں کہتے تو میں نے کہا "اس سے کیا ہوتا ہے" اس کے بعد میں نے "آزاد ہو جو دل ہے کرو"کہا یا نہیں ،یہ مجھے یاد نہیں لیکن دو دفعہ کہا وہ بھی آزاد خیالی کے ارادہ سے کیونکہ میرے ذہن میں تو وہ ہی بات تھی جو میں نے کھانا کھاتے وقت کہا تھا کے "جو لڑکی گھر سے قدم باہر نکالتی ہے وہ آزاد ہوتی ہے "لیکن آزاد ہو جو دل ہو کرو، کہتے وقت ساتھ یہ الفاظ نہ جوڑ سکا کہ "جو لڑکی گھر سے قدم باہر نکالتی ہے"صرف اتنا کہا کہ"آزاد ہو جو دل ہے کرو" نیت یہ تھی کے ذرا طنزیہ بات کروں کے آیندہ ایسا نہ کریں کیوں کہ ہمارے عرف میں (ضلع ایبٹ آباد) میں یہ لفظ عام طور پر آزاد خیال آزاد مائنڈ لڑکیوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ،آزاد خیال کے طور پر ہر شخص دوسرے کو کہتا ہے آزاد خیالی کے ارادہ سے ۔پھر ہم اپنے گھر واپس آگئے سب نارمل ہو گیا اس وقت تک میرے خیال میں بھی نہیں تھا اور مجھے یہ بلکل معلوم نہیں تھا کہ لفظ آزاد سے طلاق واقع ہوتی ہے۔میرا ذہن تھا کہ جیسے آزاد مائنڈ لوگ ہوتے ہیں کسی کو کوئی فوقیت نہیں دیتے اپنی من مانی کرتے ہیں۔ بعد میں ایک فتوی نظر سے گزرا کہ یہ لفظ طلاق کا ہے اس لیے جناب کو سوال ارسال ہے جزاک اللّٰه
اگر صورتِ حال واقعۃً وہی ہے جیسا سائل نے بیان کیا کہ بیوی کو "آزاد ہو، جو دل ہے کرو" کہا،اوریہ الفاظ طعن و طنز کے طور پر کہے گئے،طلاق دینے یا نکاح ختم کرنے کا کوئی ارادہ و نیت نہیں تھی اور نہ ہی ان الفاظ کی ادائیگی کے وقت طلاق کاتذکرہ یامطالبہ وغیرہ موجودتھااور سائل کو اس جملے کے شرعی اثر (یعنی طلاق کے وقوع) کا علم بھی نہیں تھا،بلکہ سائل کے علاقائی عرف (ایبٹ آباد وغیرہ) میں اس قسم کی جملہ بازی میں "آزاد" کا مطلب آزاد خیال یا خودمختار عورت کےلئےاستعمال ہوتا ہے ۔تو اس صورت میں ان الفاظ سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہوئی ،تاہم سائل پرلازم ہے کہ آئندہ طلاق جیسے حساس موضوع کےلیےاستعمال ہونےوالے الفاظ جن میں طلاق کا شبہ ہو ، مذاق میں بھی اداکرنےسےپرہیز کرے۔
کما فی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي : فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله۔(3/ 298)
و فی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : في مجموع النوازل امرأة قالت لزوجها أنا بريئة منك فقال الزوج أنا بريء منك أيضا فقالت انظر ماذا تقول فقال ما نويت الطلاق لا يقع الطلاق لعدم النية كذا في المحيط.» (1/ 376)