کیا فر ماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمیٰ مدثر کا نکاح مسماۃ عائشہ سے عرصہ چار سال قبل ہوا تھا ، دو تین دن پہلے ہمارے درمیان کچھ ناچاقی اور لڑائی جھگڑے چل رہے تھے، جس میں شوہر کے بیان کے مطابق بیوی کے مطالبۂ طلاق پر میں نے فقط ڈرانے کے لئے جان بوجھ کر ایک بار اس طرح طلاق کا جملہ بولا "طلاخ دیتا ہو ں" اور اس کی تا کید کے لئے دوبار "دیتا ہوں ،دیتا ہوں "بولا جبکہ بیو ی کا بیان یہ ہے کہ میں نے طلاق کا مطالبہ نہیں کیا ،بلکہ شوہر بات بات پر طلاق کی دھمکی دیتا ہے ، اور اس دن اس نے لڑائی جھگڑے میں میرے شوہر نے اس طرح طلاق کا جملہ بولا "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،دیتا ہوں ،دیتا ہوں " جبکہ طلاق کا لفظ ایک دفعہ بولا اور آگے دودفعہ "دیتا ہوں،دیتا ہوں "بولااور میں نے طلاق کے لفظ پر غور نہیں کیا کہ میرے شوہر نے طلاق بولا یا طلاخ بولا ہے ، اور اس وقت ہم میاں بیوی کے علاوہ ہمارے درمیان اور کوئی موجود نہیں تھا، اب اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور رجوع کی کوئی صورت باقی ہے یانہیں ؟
واضح ہو کہ "طلاق "کے بجائے اگر" طلاخ "کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا سائل نےجب بیو ی کی طرف سے طلاق کے مطالبے کے موقع پر مذکور الفاظ"طلاخ دیتاہوں،دیتاہوں دیتاہوں"تین بار کہے تواس سےسائل کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہوکرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اورحلالۂشرعیہ کےبغیرباہم عقدِنکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذادونوں پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرےسےعلیحدگی اختیارکریں،اورمیاں بیوی والا تعلق ہرگزقائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہگارہونگے،جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنےکےبعداپنی مرضی سےدوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق لئے ضروری ہے ) کےفوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ کے بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہرصورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد ِنکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد ِنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دے گا ، تاکہ زوج ِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقد نکاح کرے , یہ مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر حدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا جائز اور درست ہے۔
کما فی الدرالمختار: (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، ويدخل نحو طلاغ وتلاغ وطلاك وتلاك أو " ط ل ق " أو " طلاق باش " بلا فرق بين عالم وجاهل، وإن قال تعمدته تخويفا لم يصدق قضاء إلا إذا أشهد عليه قبله وبه يفتى (باب الصریح 3 ص238/239 ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: رجل قال لامرأته ترا تلاق. هاهنا خمسة ألفاظ. تلاق وتلاغ وطلاغ وطلاك وتلاك عن الشيخ الإمام الجليل أبي بكر محمد بن الفضل - رحمه الله تعالى - أنه يقع وإن تعمد وقصد أن لا يقع الخ(الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج1 ص357 ط:ماجدیہ)۔
وفی الھدایۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی المرأۃ أو ثیتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی اتنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت الخ(ج2صـ92 کتاب الطلاق ط: انعامیۃ)۔
چانچہ فتویٰ محمودیہ میں بھی اس طرح کا مسئلہ مذکورہے ،اگر شوہر نے ایسا پر چہ لکھ کر بیوی کے پاس بھیجا اور اس کو اپنی تحریر کا اقرار ہے یا اس پر شرعی شہادت موجود ہے ، اور اس میں تین مر تبہ طلاق (طلاخ)ہے تو بلاشبہ طلاق مغلظہ ہو گئی،صریح الفاظ میں نیت کی ضرورت نہیں ،علامہ شامی نے تصریح کی ہے ۔